منظم مکاتب مسائل اور حل

Spread the love

منظم مکاتب مسائل اور حل

تحریر : توصیف القاسمی (مولنواسی) مقصود منزل پیراگپور سہارن پور

واٹسپ نمبر 8860931450

مسلمانوں کے محلوں میں اور ان کی مساجد میں دینی مکاتب کی اہمیت ایک تسلیم شدہ چیز ہے ، نسل نو کے ایمان و یقین کی بقاء مکاتب پر منحصر ہے ، امت مسلمہ کے ہر بڑے مفکر اور عالم دین نے مکاتب کی اہمیت پر انتہائی وزنی کلمات لکھے اور کہے ہیں ۔

زیر نظر مضمون میں وہ الجھنیں پیش کی جائیں گی جن پر بہت کم لکھا اور بولا جاتا ہے مگر ہر مکتب اور اس میں کام کرنے والا عملہ staff ان الجھنوں Problems کا مقابلہ کرتا ہے نتیجتاً مکاتب ٹوٹ پھوٹ اور آپسی جھگڑوں کا شکار ہوجاتے ہیں ۔ آئیے غوروفکر کرتے ہیں ۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ انسانی فطرت ضرورت سے زائد پابندیوں قوانین اور اصول و ضوابط کو قبول نہیں کرتی ، یہ چیزیں انسان کے اندر بغاوت اور ’بچ نکلنے کا ذہن ‘ پیدا کرتی ہیں

۔ ”منظم مکاتب“ کے سلسلے میں مذکورہ انسانی فطرت کو بالکل نظر انداز کردیا جاتا ہے جس کے نتیجے میں منظم مکاتب ”غیر منظم“ ہوجاتے ہیں اور ہر ایرا غیرا نتھو کھیرا بغاوت کرکے مکاتب کے نام پر موج مستی کرنا شروع کردیتا ہے اور پھر کوئی بھی اس بدنظمی کو روک نہیں سکتا

اکثر چھوٹے چھوٹے مدارس و مکاتب کے ذمے داران ، اکھڑ مہتم کے یا ظالم کمیٹیوں کے ستائے ہوئے ہوتے ہیں جو زندگی بھر قوم اور بچوں کا مستقبل برباد کرکے اپنی بھڑاس نکالتے رہتے ہیں ۔

کئی سال پہلے غالباً 2017 میں شمالی دہلی کے ایک مکتب مِیں امتحان کے لیے جانا ہوا وہاں کے معلمین أصول و ضوابط اور کمیٹی کے خوف سے سہمے ہوئے تھے چہروں سے بے بسی صاف چھلک رہی تھی

مگر کچھ دنوں کے بعد جیسے ہی ان معلمین حضرات کو موقع ملا فوراََ انہوں نے مکتب کے عین سامنے اپنا ذاتی مکتب قائم کرلیا اکثر بچے اُدھر سے ادھر آگئے

مکاتب و مدارس کی یہ خاصیت ہے کہ بچے کمیٹی سے زیادہ استاد سے مانوس ہوتے ہیں ، نتیجتاً پہلے مکتب کے نظام پر زبردست منفی اثر پڑا سارے اصول و ضوابط اور کمیٹی کی دادا گیری دھری کی دھری رہ گئی ۔ ”منظم مکاتب“ کی تحریک اٹھانے والوں پر لازم ہے کہ اس صورتِ حال پر غوروفکر کریں ۔

قارئین کرام ! مکاتب کا بنیادی مقصد عام مسلمانوں کو اور بالخصوص اسکول و کالجز میں پڑھنے والے طلبا کو دین کی فرض عین تعلیم اور بنیادی عقائد کی معلومات فراہم کرنا ہے ناکہ حافظ قرآن یا عالم دین بنانا

اس لیے مکاتب میں تعلیمی نصاب اور نصاب کی ”آخری حد “متعین ہونا بہت ضروری ہے مثلاً کسی بچے نے ناظرہ قرآن کریم پڑھ لیا پارہ عم اور مخصوص سورتیں حفظ کرلی دینی تعلیمی بورڈ یا دینیات ( ممبئی ) کے پانچوں حصے پڑھ لیے تو اب اس بچے کو مکتب سے فارغ کردینا چاہیے اور والدین کو ہدایت کردینی چاہیے کہ اپنے بچے کی اسکولی تعلیم پر توجہ دیں اب اس پر مکتب کا بار نہ ڈالیں ۔

ہاں صوم و صلوٰۃ کی پابندی اور تربیت پر ضرور توجہ دی جائے ۔ مگر جب ”منظم مکاتب“ کی تحریک اٹھائی جاتی ہے تو مذکورہ بالا ”آخری حد“ کو نظر انداز کردیا جاتا ہے اور والدین کے سامنے بچے کی تعریف اور مکتب فضائل ایسے بیان کیے جاتےہیں کہ وہ بچے کو حفظ قرآن کریم میں لگادیتے ہیں اس غلو اور افراط بازی سے بچے کی عصری تعلیم پر زبردست منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں اور وہ کہیں کا بھی نہیں رہتا کتنے ہی ایسے بچے ہیں

جو مکتب اور اسکول پڑھ رہے تھے پھر ان کے والدین کی غلط رہ نمائی misguide کرکے بچوں کو حفظ قرآن کریم میں لگادیا گیا نتیجتاً نہ وہ حافظ قرآن بن سکا اور نہ ہی اسکولی تعلیم جاری رکھ سکا ۔

خیال رہے کہ کام یابی کی چند مثالوں سے عمومی کلیہ نہیں بنتا ۔ بچے کو مزید اسلامی علوم سے واقفیت کرانے کے لیے مطالعہ اسلامیات سے جوڑ دیا جائے ۔

یہ بات بھی یاد رکھنے والی ہے کہ سو فیصد کامیابی کبھی کسی میدان میں ہاتھ نہیں آتی مگر جب ہمارے ذمے داران مکاتب کا جائزہ لیتے ہیں یا کارگزاری لیتے اور دیتے ہیں تو سو فیصد کام یابی کے ”معیار“ کو ذہن میں رکھتے ہوئے ہی جائزہ لیتے ہیں اور کارگزاری لیتے دیتے اور بلند و بانگ دعوے کرتے ہیں جو کہ اکثر و بیشتر سپید جھوٹ ہوتا ہے ۔ اس جھوٹ سے دیگر مکاتب کے ذمے داران اور معلمین پر احساس مایوسی چھا جاتا ہے اور پھر منظم مکاتب کی تحریک کو اندرونی طورپر ایک نئے چیلنج کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔

محترم قارئین کرام! جب ہم ”منظم مکاتب“ کی بات کرتے ہیں تو آپ حضرات یہ الفاظ ضرور سنتے ہوں گے تربیتی پروگرامز ، جائزہ ، کارگزاری ، مشورہ اور کمیٹی ۔ بلاشبہ مذکورہ تمام چیزیں منظم مکاتب کے لئے انتہائی اہم ضروری اور بنیادی حیثیت رکھتی ہیں

لیکن اگر مذکورہ تمام چیزیں رحم دلی اخلاقیات اور نصح و تذکیر سے خالی ہوجائیں اور ان کی جگہ مقامی سیاست ، کمیٹی اور أمام کے جھگڑے ، کسی کو ہٹانے اور کسی کو لگانے کی درپردہ کوششیں ، داخل ہوجائیں تو منظم مکاتب کی تحریک سوائے طوفان بدتمیزی کے کچھ نہیں رہ جاتی ۔

مذکورہ طوفان بدتمیزی سے بچنے کے لیے تین کام انتہائی ضروری ہیں ایک تو معلم کا تقرر ہوجانے کے بعد حتی الامکان معلم کو معمولی وجوہات کی بنا پر ہرگز ہرگز علیحدہ نہیں کرنا چاہیے ۔

دوسرے جن لوگوں کا تعلیمی میدان سے کوئی تعلق نہیں ان لوگوں کو منظم مکاتب کی تمام اکائیوں سے دور رکھنا چاہیے ۔ تیسرے معلمین حضرات کو بھی آزادانہ طور پر اپنی پریشانیاں اوت الجھنیں پیش کرنے کا وقت دینا چاہیے ۔

برصغیر کے دینی مکاتب کے لیے تیار کردہ تمام نصابوں کی بنیاد دو چیزوں پر ہے قرآن مجید اور اردو ۔ ماشاءاللہ قرآن کریم پر توجہ دی گئی مگر دینی مکاتب اور مساجد میں اردو زبان پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی اور آج تک بھی نہیں دی گئی دینیات (ممبئی ) اور دینی تعلیمی بورڈ جمعیت علماے ہند کے تیار کردہ نصابی کتابوں میں بھی ہے اردو بالکل آخر میں رکھی گئی اس وقت تک طلبا اور استاد تھک چکے ہوتے ہیں ، مذکورہ دونوں ہی نصابوں میں تمام مضامین اُردو زبان میں ہیں لیکن طلبا ان کو بذریعہ زبان نہیں ہیں پڑھتے بلکہ رٹنے کے ذریعے یاد کرتے ہیں جوکہ سراسر غلط اور ذہنی بالیدگی کے لیے رکاوٹ ہے ۔

اس لیے جس قدر اہتمام ہم لوگ قرآن کریم کی تعلیم کا کرتے ہیں بعینہ اسی طرح اردو زبان کی تعلیم کا اہتمام بھی کرنا چاہیے اس اہتمام کے نتیجے میں طلباء کی رسائی اردو زبان میں دینیات اور اسلامیات پر لکھی گئی تمام کتابوں تک ہوجائے گی ۔ ان شاءاللہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *