پہچی وہیں پے خاک جہاں کا خمیر تھا

Spread the love

پہچی وہیں پے خاک جہاں کا خمیر تھا

از: محمد عظیم فیض آبادی از دیوبند

اس وقت بہار کا موسم اگرچہ انتہائی سرد ہے لیکن بہار کی سیاست اس سے زیادہ گرم ہے کیوں کہ بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے ایک بار پھر مہاگھٹ بندھن سے ناتہ توڑ کر بی جے پی کے خیمے میں پناہ لے کر اپنے اصلی یاروں سے وفاداری کا ثبوت پیش کردیا ہے،

نتیش کمار کے لیے یہ کوئی نئی بات نہیں ہے 2013 میں بی جے پی سے الگ ہوئے اور 2015 میں آر جے ڈی و کانگریس کے ساتھ اتحاد کیا پھراور 26/جولائی 2017 کو بہار کی سیاست میں زبردست زلزلہ آیا اور انتہائی ڈرامائی انداز میں استعفیٰ دے کر اتحاد کو ٹور کر پھر اسی بھگوا رتھ پر سوار ہوئے تھے جس سے انھیں پھینک دینے کی سازش کی گئی تھی

اور پھر 2022 میں جب بی جے پی نے نتیش کمار کو ایک اور سیاسی جال میں الجھا کر ان کے ایم ایل اے کو خفیہ طور پر خرید و فروخت کے بازار میں نیلامی کا سود کیا اور سازش کا پردہ کھل گیا تو پھر نتیش کمار کو اپنی سیاسی روح بچانے کے لیے بہت ہی تلخ انداز میں بی جے پی این ڈی اے اتحاد کو الوداع کہنا پرا اور میڈیا کے سامنے برملا یہ اعلان کیا کہ اب مربھی جائیں گے مگر بی جے پی کے ساتھ نہیں جائیں گے۔

اور بی جے پی نے بھی بڑے طمراق سے یہ کہا تھا کہ اب نتیش کے لیے بی جے پی کے دروازے ہمیشہ ہمیش کے لیے بند ہیں لیکن سیاسیت کی محبوبہ اتنی حسین ودلفریب ہوتی ہے کہ وہ ساری قسمیں اور وعدے کو بھلا کر قیادت سے ہم آغوش ہونےاور کرسی سے بغل گیر ہونے پر مجبور کر دیتی ہے اور وہی ہوا عاشق و معشوق دونوں نے اپنی اپنی قسموں کو تور کر اس طرح ایک نیا رکارڈ بناتے ہوئے

ایک بار پھر تقریبا 17/ ماہ کانگریس و آر جے ڈی اتحاد کے ساتھ سیکولر کے لبادے میں سرکار چلانے کے بعد بتاریخ 29/ جنوری 2024 کو محض اپنے ذاتی مفاد کے حصول کے لیے بھگوا چولا پہن لیا ہے ۔

، در اصل انڈیا اتحاد میں اپنی دھونس جماکر وزارتِ عظمہ کا جو خواب نتیش کمار نے سجایا تھا وہ چکنا چور ہوگیا اور اُدھر بی جے پی کو مذہبی کارڈ کھیلنے اور انتہائی ناگزیر حالات میں شنکر اچاریوں کے مخالفت کے بوجود آدھے ادھورے رام کے نام پر سیاسی مندر کا اُدگھاٹن کرنے کے باجود 2024 کے لوک سبھا الیکشن میں شکشت کا خوف اس قدر ستا رہا ہے کہ انڈیا اتحاد کو کمزور کرنا بی جے پی و آر ایس ایس کے لیے مجبوری بن گیا تھا

اور اس کے لیے انڈیا اتحاد میں نتیش کمار کے علاوہ کوئی چہرہ ایسا نہیں تھا جو ملک کے جمہوری تابے بانے کی حفاظت اور ملک کی سالمیت وحفاظت کو بالائے طاق رکھ کر عوامی مفاد کو بھلاکر محض اپنے ذاتی مفاد کے لیے اپنے اصولوں سے سمجھوتہ کرکے انڈیا اتحاد کو کمزور کرنے کےلئے اس سے الگ ہوجائے

اور نتیش کمار کے پاس بھی انڈیا اتحاد سے جدائی کے بعد بی جے پی، این ڈی اے کی بھگوا ٹیم کے سوا کوئی جائے پناہ بھی نہیں تھی

اگرچہ اس اتحاد کے توڑنے کے نتیش کمار طرح طرح کے حیلے بہانے کر رہے ہوں مگر سیاسی پنڈتوں کو تو تقریبا ایک ماہ پہلے ہی معلوم ہوچکا تھا کہ اب نتیش کمار کو بی جے پی کے بغیر کھانا ہضم ہونے میں بڑی دشواری ہے

اسی وجہ سے کافی دنوں سے بہار کے ناموافق موسم کے باوجود دلی کا نیٹورک کافی مضبوط رہا مبارک بادیاں اورآمد ورفت کافی گرم جوش رہا اور نتیش کمار کے مودی جی اور بی جے پی کے سرکردہ لیڈروں سے ملاقات واپنی وفاداری کا ثبوت پیش کرنے کی فکر سے سیاست کے گُرگے سمجھ گئے تھے اب نتیش کمار کسی بھی وقت پالا بدل سکتے ہیں

بہار کے بی جے پی کے قد آور لیڈر سوشیل کمار مودی جو 2015 ،2017 میں اسی نتیش کمار کو دھوکا باز اور گودی میڈیا پلٹورام کے لقب سے ملقب کر چکے ہیں وہ آج 2024 میں ایک بار نتیش کمار کی یاری کا دم بھرتے ہیں

اور انڈیا اتحاد سے ناتہ توڑ کر گورنر کو استعفیٰ دے اور پھر بی جے پی کے ساتھ ایک بار پھر سے سرکار بنانے پر ان کو اپنا لیڈر منتخب کرلیتے ہیں اور انھیں مبارک باد پیش کرنے کرتے ہیں مودی جی شاہ اور دیگر لیڈران سب نتیش کمار کے لیے اور نتیش ان کے لیے بچھے جاتے ہیں

اسے ایک طرح کی سیاسی عیاشی بھی کہہ سکتے ہیں جو کوٹھا بدل بدل کر طوائف کی باہوں میں تھوڑی دی کے  لیے حاصل کی جاتی ہے پھر کب کوٹھا بدل جائے کچھ بھروسہ نہیں ، یہ بہار کی سیاست میں غالبا پانچویں مرتبہ ہے ، یہ ایک طرح سے عوام کے ساتھ ظلم زیادتی ناانصافی ہے ان کے نزدیک اپنے ذاتی مفاد کے لئے عوام کے اعتماد بھروسے کو ٹھکرا کر عوامی مفاد کو فراموش اور جہموری قدروں کی پامالی کرتے ہوئے بجائے رنج وافسوس کے خوشی اور جشن کا موقع سمجھا جاتاہے ایک دوسرے کو مبارک بعد پیش کرتے ہیں

این ڈی اے کی اس نئی حکومت میں اگرچہ وزیر اعلیٰ کا چہرہ نتیش کمار ہی رہیں گے مگر ان کی کمان بی جے پی کے ہاتھوں میں ہی ہوگی ان پر فرمان ناگپور اور دلی سے ہی نافذ ہوں گے ، ان پر نکیل لگانے ہی کے لیے شاید بی جے پی کے دو وزیر اعلیٰ رکھے گئے ہیں

بہر حال فسطائی طاقتوں کے بهگوا رتھ کو روکنے کے لئے جس اتحاد کی تشکیل ہوئی تھی اور 2024 کے لوک سبها الیکشن میں جس اتحاد کو مزید مضبوط ہونا تها اب وہ نتیش کمار کے پهر سے این،ڈی ،اے میں چلے جانے سے کمزور ہوگا یا مزید مضبوط یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا گورنر نے اب پهر نتیش کمار کو اکثریت ثابت کرنے کا موقع دیا ہے

اب دیکهنا یہ ہے کہ ان کی پارٹی کے تمام ممبران ان کا ساتھ دے کر بی جے پی کو مضبوط کرتے ہیں یا پهر ان کی پارٹی کے مسلم ممبران اور جے ڈی یو کے سیکولرزم کا دم بهرنے والے ان سے کنارہ کشی اختیار کرکے اپنے اعتدال پسندی کا ثبوت پیش کرکے نتیش اور ان جیسے دیگر لیڈران کو ہمیشہ کے لیے سبق سیکھاتے ہیں کھیل ہو چکا یا کھیلا ابھی باقی ہے انے والا وقت بتائے گا

از: محمد عظیم فیض آبادی از دیوبند

9358163428

منور رانا آپ آسان سمجھتے ہیں منور ہونا

ہمارے لیے آئیڈیل کون ہیں

One thought on “پہچی وہیں پے خاک جہاں کا خمیر تھا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *