ممتاز شاعر ڈاکٹر معین احسن جذبی

Spread the love

ممتاز شاعر ڈاکٹر معین احسن جذبی

21 اگست: یوم پیدائش

ممتاز شاعر ڈاکٹر معین احسن جذبی (پیدائش: 21 اگست، 1912ء- وفات: 13 فروری، 2005ء)

معین احسن جذبی کا شمار ممتاز ترین ترقی پسند شاعروں میں ہوتا ہے۔ لیکن تحریک اور اور اس کے ادبی وسماجی نظریات سے جذبی کی وابستگی مختلف خطوط پر تھی، وہ ان ترقی پسندوں میں سے نہیں تھے جن کا فن نظریاتی پروپگنڈے کی نذر ہوگیا۔

جذبی کی تربیت کلاسیکی شعری روایت کے سایے میں ہوئی تھی اس لئے وہ ادب میں راست اظہار کے بجائے بالواسطہ اور رمزیاتی اظہار پر زور دیتے تھے۔ جذبی نے نظمیں بھی کہیں لیکن ان کے تخلیقی اظہار کی بنیادی صنف غزل ہی رہی۔ ان کی غزلیں نئے سماجی اور انقلابی شعور کے ساتھ کلاسیکی رچاو کی حامل ہیں۔

جذبی کی پیدائش 21 اگست 1912 کو مبارک پور اعظم گڑھ میں ہوئی۔ وہیں انہوں نے ہائی اسکول کا امتحان پاس کیا۔ سینٹ جانس کالج آگرہ سے 1931 میں انٹر کیا اور اینگلو عربک کالج سے بی اے کیا۔ جذبی نو سال کی عمر سے شعر کہنے لگے تھے۔ ابتدا میں حامد شاہجہاں پوری سے اصلاح لی۔

پہلا تخلص ملالؔ دوسرا اور آخری تخلص جذبیؔ تھا۔ آگرہ میں مجاز، فانی بدایونی اور میکش اکبر آبادی سے ملاقاتیں رہیں جس کے سبب جذبی کی تخلیقی صلاحیت نکھرتی رہی۔

قیام لکھنؤ کے دوران علی سردار جعفری اور سبط حسن سے قربت نے انہیں ترقی پسند نظریۂ ادب سے متعارف کرایا جس کے بعد جذبی علی گڑھ میں ایم اے کے دوران تحریک کے متحرک اور فعال کارکنان میں شمار کئے جانے لگے۔

ایم اے کرنے کے بعد کچھ عرصے تک جذبی نے ماہنامہ ’آجکل‘ میں اسسٹنٹ ایڈیٹر کی خدمات انجام دیں۔ 1945 میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں بطور لکچرر تقرر ہوگیا جہاں وہ آخر وقت تک مختلف عہدوں پر فائز رہے۔ جذبی نے شاعری کے علاوہ کئی اہم تنقیدی کتابیں بھی لکھیں۔

’حالی کا سیاسی شعور‘ پر انہیں ڈاکٹریٹ کی ڈگری بھی ملی اور یہ کتاب حالی مطالعات میں ایک اہم حوالے کے طور پر بھی تسلیم کی گئی۔ اس کے علاوہ ’فروزاں‘ ’سخن مختصر‘ ’ گداز شب‘ ان کے شعری مجموعے ہیں۔

13 فروری 2005 کو جذبی کا انتقال علی گڑھ میں ہوا۔

تصانیف 

شعری مجموعے ۔ 1 ۔ فروزاں ۔ 2 ۔ سخن مختصر ۔ 3 ۔ گدازِ شب ( مذکورہ مجموعوں کے منتخب کلام میں شامل ہیں) نثری تصانیف : 1 ۔ حالی کا سیاسی شعور ( دراصل یہ جذبیؔ کے پی ایچ ڈی کا مقالہ ہے)، 2 ۔ طلسم ہوش ربا 3 ۔ خود نوشت سوانح۔

منتخب کلام 

ابھی سموم نے مانی کہاں نسیم سے ہار

ابھی تو معرکہ ہائے چمن کچھ اور بھی ہیں 


یا اشکوں کا رونا تھا مجھے یا اکثر روتا رہتا ہوں

یا ایک بھی گوہر پاس نہ تھا یا لاکھوں گوہر ٹوٹگئے 


جب کبھی کسی گل پر اک ذرا نکھار آیا

کم نگاہ یہ سمجھے موسم بہار آیا 


اللہ رے بے خودی کہ چلا جا رہا ہوں میں

منزل کو دیکھتا ہوا کچھ سوچتا ہوا 


اے موج بلا ان کو بھی ذرا دو چار تھپیڑے ہلکے سے

کچھ لوگ ابھی تک ساحل سے طوفاں کا نظارہ کرتے ہیں 


جو آگ لگائی تھی تم نے اس کو تو بجھایا اشکوں نے

جو اشکوں نے بھڑکائی ہے اس آگ کو ٹھنڈا کون کرے


جب کشتی ثابت و سالم تھی ساحل کی تمنا کس کو تھی

اب ایسی شکستہ کشتی پر ساحل کی تمنا کون کرے

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *