سیاہ سوارخ : سائنس کی آسمانی حیراں

Spread the love

از : صلاح الدین علی اکبر سیاہ سوارخ : سائنس کی آسمانی حیراں

           سائنس کو ہمیشہ یورش پیدا کیے ایک آسمانی حیراں ہے سیاہ سوارخ۔ ثقب اسود سے خیال کر جاتا ہے کہ اس کے پاس آتے جو بھی جلدی ہڑپتاہے۔ اس کی آخری ارتقا ایسی طرح ہے کہ سورج کے بوجھ سے کئی گنا بوجھ والے تارے ہیں۔        

                      آلبرٹ اینسٹیں ((ALBERT EINSTEIN کی عامی نسبتی نظریہ سے سیاہ سوارخ تعریف کر گ‏‏ئے ہیں۔  ستاروں میں ماندے ہایٹرجن(HYDROGEN) جلتے جلتے ختم ہونے سے یا پگھلنے سے تارہ کی صورت تبدیل ہونے سے شروع ہوگی۔  اب تک اعتقاد یہ تھا کہ وہ سکڑ سکڑ کر بہت چھوٹی حالت میں پہنچے ثقب اسود جوبھی باہر نہیں چھوڑ دیتا ہے۔

    لیکن، سیاہ سوارخ کے بارے میں کئی تحقیقات چلاتے توانائی حیلہ دان سٹیفن ہوکنگ(STEIPHEN HAWKING)  یہ قریبی زمانہ میں اپنی نظریہ ترمیم کی۔  پہلے انّیس سو ستّر میں سٹیفن ہوکنگ(STEIPHEN HAWKING)   اور روجر پنروس(ROJER PENROSE) مل جل کر ایک کا‎ئناتی پیداوار نظریہ پیش کیے۔ 

           اگر کالے سوارخ کے رازوں پردہ ہٹاکر نکل آ‎ۓ تو شاید کائناتی پیداوار کے نظریے ہی ترمیم کیے جائیں گے۔       

            ثقب اسود، مادے کی ایک بے پناہ کثیف ومرتکز حالت ہے جس کی وجہ سے اس کی کشش ثقل اس قدر بلند ہوجاتی ہے کہ کوئی بھی شے اسکے افق وقیعہ (EVENT HORIZON)  سے فرار حاصل نہیں کر سکتی،  ما سوا‎ئے اسکے کہ وہ کیمتی سرنگ گری (QUANTUM TUNNELLNG) کا رویہ اختیار کرے ، اس رویہ کو HAWKING RADIATION بھی کہا جاتاہے۔

 اردو زباں میں اسے ثقب اسود، سیاہ سوارخ، کالا سوارخ بھی کہا جاتاہے۔

جغرافیہ دان جھون مایکل (JOHN MICHELL)   نے 1783 میں رائل سوسائٹی کے لیے لکھے ایک مقالہ میں بتایا کہ وہ ایک ہے ایسے جسم کا تصور کہ جس کی کشش  سے روشنی سمیت کائنات کی کوئی شے فرار نہیں ملے گا۔

اگر کتاب تاریخ کو کھنگال کر دیکھا جائے تو ایک حقیقت ہے کہ سیاہ سوارخ کی کثافت جس کے سورج سے 500 گنا بڑی جسامت کوئی کائناتی جسم کی کثافت بھی بوجتنی ہے اور اس کی سطح پر سرعت فرار، روشنی کی رفتار کے برابر ہوجائے تو وہ غیر مرئی (INVISIBLE)  موجود ہوتے ہوئے بھی غائب ہو جائے گا-

اگر اتنی بوجتنی 500 تک بڑھ جائے تو ایک لا محدود بلندی سے اس کے جانب گرنے والا کوئی جسم، اس کے سطح پر آتے روشنی سے زیادہ سرعت حاصل کر لیگا اور دوسرے اجسام کے ساتھ ساتھ ایسے جسم سے نکلنے یا پھوٹنے کی طاقت نہیں ملے گا-             

  یہ سمجھنا ہے کہ ثقب اسود کو دیکھا نہیں جا سکتا، کہ آنکھوں پر دیکھنا غیر ممکن ہے۔ 

ایک سیاہ سوارخ ادھر موجود ہونے پر سمجھنے سکتے ہیں کہ سیاہ سوارخ کا مشاہدہ ایک ہی طریقہ پر کیا جا سکتاہے، اور وہ ہے سیاہ سوارخ کے آس پاس موجود تاروں پر ان کے اثرات واقع ہونگی- ایک ستارہ لاکھوں وکروڑوں  کلومیٹر گھنٹہ کی رفتار سے ایک نا معلوم چیز کے گرد گردش کر رہا ہوتاہے-

 اب تو سائنس سیاہ سوارخ کو تین اقسام پر تقسیم کرایاہے جس میں پہلا نجمی ثقب اسود (STELLER BLACK HOLES)  جن کی قیمت ہمارے کئی سورج کے برابر ہو سکتی ہے، دوسرا جو سوپر ماسیو بلیک ہولز(SUPER MASSIVE BLACK HOLES)  جن کی  قیمت ہمارے کروڑوں سورج کے برابر ہو سکتی ہے اور معمولی بلیک ہولز (MINIATURE BLACK HOLES )جن کی قیمت ہمارے ایک ہی سورج برابر ہو سکتی ہے-

ثقب اسود کی حقیقات میں ایک حقیقت پوشیدہ ہے کہ  CYGNUS X-1 یہ نجمی ثقب اسود ہے اور ایکس رے مشاہدات کے مطابق یہ ہم سے کوئی 6500 نوری سال کے فاصلے پر موجود ہے-

خیال کیا جاتاہے کہ سیاہ سوارخ کے قریب اگر کوئی انساں گیا تو اس کے پرخچے اڑجائیں گے لیکن وہاں موجود کشش ثقل انسان کو ایک ربڑ کی طرح کھینچ کر لمبا کر سکتی ہے  اور اس کے بعد ظاہر موت ہے-

سیاہ سوارخ سے وشالکای

برٹیش علم دان نجوم ہمارے سورج سے دس گنا مزید بوجھ ماندے ایک ثقب اسود ستاروں کے درمیاں سے ایجاد کی- ان۔ جی۔ ڑی (N.G.D) 4472 کا نام سے الپٹکل گالکسی  (ELIPTICAL GALAXY)  میں گلوبلر کلسٹر(GLOBULAR CLUSTER) کے اندر ہے یہ وشالکای کا مقام- زمین سے پچاس ملّین (MILLION)  نوری سال کے فاصلے پرموجود ہے۔۔۔

صلاح الدین علی اکبر

Research scholar, DARUL HUDA ISLAMIC UNIVERSITY, CHEMMAD, KERALA, INDIA

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *