حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اور فکری انحراف کا طوفان ایک تنقیدی تجزیہ

Spread the love

حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اور فکری انحراف کا طوفان ایک تنقیدی تجزیہ

خالد سیف اللہ موتیہاری

تاریخ کے صفحات کبھی کبھی صداقت کی روشنی کے باوجود تعصب کے سیاہ بادلوں سے ڈھانپ دیے جاتے ہیں، اور کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جنہیں کسی دور میں احترام اور کسی دور میں نفرت کا نشانہ بنایا جاتا ہے

حالاں کہ ان کی اصل حیثیت نہ بدلی ہوتی ہے نہ بدل سکتی ہے۔ صحابہ کرامؓ کی جماعت اسی زمرے میں آتی ہے، اور ان میں سے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ ایک ایسی شخصیت ہیں جن کے بارے میں وقتاً فوقتاً بعض اہلِ قلم و فکر اپنی رائے کو “اجتہاد” کے پردے میں پیش کر کے دراصل امت کے اجتماعی عقیدے پر حملہ آور ہوتے ہیں۔
حالیہ دنوں میں سلمان ندوی صاحب جیسے ایک کہنہ مشق عالم کی جانب سے حضرت معاویہؓ پر کی گئی تنقید نہ صرف فکری انتشار کو جنم دیتی ہے بلکہ علمی دیانت، تحقیقی اصول اور اعتقادی توازن کے بنیادی تقاضوں کو بھی پامال کرتی ہے۔ اگرچہ سلمان ندوی صاحب کی علمی خدمات اور ان کی خطیبانہ توانائی کا انکار ممکن نہیں، تاہم علم کے میدان میں شخصیت پرستی یا شہرت پسندی اگر توازن سے محروم ہو جائے، تو وہی شخص جس سے اُمیدیں وابستہ ہوتی ہیں، خود ایک آزمائش بن جاتا ہے۔


حضرت معاویہؓ کا شمار ان جلیل القدر صحابہؓ میں ہوتا ہے جنہوں نے اسلام کی ابتدائی فتوحات، اسلامی سیاست کے استحکام اور نظم و ضبط کے قیام میں کلیدی کردار ادا کیا۔ نبی کریم ﷺ نے انہیں نہ صرف اپنا کاتبِ وحی بنایا بلکہ ان کے حلم، ضبط، بردباری، سیاست اور معاملہ فہمی کو عملًا سراہا۔ حضرت عمرؓ جیسے خلیفۂ راشد نے حضرت معاویہؓ کو شام کی گورنری پر فائز کیا اور فرمایا کہ “معاویہ اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہے”۔ پھر حضرت عثمانؓ کے دور میں بھی آپؓ کو برقرار رکھا گیا

اور آپؓ نے شام کو ایک ایسی مثالی ریاست میں تبدیل کر دیا جہاں عدل و نظم، امن و سکون، خوشحالی و ترقی کی بے نظیر فضاء قائم ہوئی۔
حضرت علیؓ اور حضرت معاویہؓ کے درمیان جو سیاسی نزاع رونما ہوا، وہ ایک اجتہادی اختلاف تھا جس میں دونوں فریقوں کی نیت خیر تھی۔ اہل سنت والجماعت کا موقف بالکل واضح ہے کہ ان دونوں بزرگوں کے درمیان ہم انصاف کرتے ہیں، کسی کے خلاف زبان درازی نہیں کرتے، اور اس واقعے کو امت کی اجتماعی حکمت سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں، نہ کہ انفرادی تعصب سے۔ یہ ایک اصولی موقف ہے جس پر چودہ صدیوں سے اہلِ حق کی جماعت قائم ہے۔


لیکن جب سلمان ندوی جیسے لوگ اپنے جذباتی بیانات سے اس توازن کو بگاڑتے ہیں، تو امت کو فکری بحران کی جانب دھکیلتے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہوتا ہے کہ وہ تاریخ کو “صحیح تناظر” میں پیش کر رہے ہیں، لیکن سچ یہ ہے کہ ان کا تناظر خود ہی ایک مخصوص فکری دھارے سے متاثر ہے، جو اہلِ سنت کی مرکزی فکر سے دور جا چکا ہے۔ حضرت معاویہؓ کو ملوکیت، اقتدار پرستی، اور فتنہ انگیزی کا محور بنا کر پیش کرنا دراصل تاریخ کے ساتھ انصاف نہیں، بلکہ اپنے ذاتی رجحانات کو علمی قالب میں پیش کرنے کی ایک خطرناک کوشش ہے۔


سلمان ندوی صاحب کی بعض تقاریر اور تحریریں ایسی ہیں جن میں وہ کھلے لفظوں میں حضرت معاویہؓ کو “ظالم حکمران” یا “اقتدار کے بھوکے” شخص کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ یہ اسلوبِ کلام نہ صرف غیر علمی ہے بلکہ اعتقادی فساد کی بنیاد بھی رکھتا ہے۔ جب ہم کسی صحابیؓ کی نیت کو مشکوک بناتے ہیں تو گویا ہم قرآن کی اس گواہی کو چیلنج کرتے ہیں جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
“رضی اللہ عنہم و رضوا عنہ”
یعنی اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے۔
اگر حضرت معاویہؓ پر اعتراض کو جائز مانا جائے تو کل یہی زبان حضرت عمرؓ، حضرت عثمانؓ، بلکہ حضرت علیؓ تک پہنچ سکتی ہے۔ تاریخ میں ہر شخصیت کے فیصلے ایسے ہیں جو بظاہر ایک دوسرے سے مختلف تھے، لیکن ہم نے بحیثیت اہل سنت والجماعت ہمیشہ ان فیصلوں کو اجتہاد مانا ہے، خطا یا خیانت نہیں۔ امام ابن تیمیہ، حافظ ابن حجر، امام نووی، اور دیگر جلیل القدر محققین نے بارہا واضح کیا ہے کہ ان جھگڑوں میں صحابہ کرامؓ کی نیت کو مشکوک نہ سمجھا جائے، بلکہ ان کے اجتہاد کو تسلیم کیا جائے اور ان کی شان میں گستاخی سے مکمل اجتناب کیا جائے۔


حضرت معاویہؓ کی حکمت، ان کی سیاسی بصیرت، ان کی تدبرانہ قیادت، اور ان کی حلم و بردباری کا لوہا ان کے شدید ترین مخالفین نے بھی مانا ہے۔ آپؓ نے حضرت حسنؓ سے صلح کر کے امت کو خونریزی سے بچایا۔ آپؓ کے دور میں اسلامی سلطنت کا دائرہ وسیع ہوا، علمی تحریکات نے فروغ پایا، اور ایک ایسے سیاسی نظام کی بنیاد رکھی گئی جو کم از کم پانچ دہائیوں تک اسلامی وحدت کا مرکز رہا۔


ان سب حقائق کے باوجود اگر کوئی شخص حضرت معاویہؓ کو دشمنانِ اہل بیت کی صف میں کھڑا کرنے کی جسارت کرے، تو یہ اس کی علمی دیانت کا بحران ہے، نہ کہ تاریخ کا۔ سلمان ندوی صاحب جیسے بزرگوں سے یہی توقع تھی کہ وہ امت کو وحدت کی راہ دکھائیں گے، اختلاف میں اعتدال کا درس دیں گے، اور سلف صالحین کے منہج پر استقامت اختیار کریں گے، لیکن افسوس کہ انہوں نے خود فکری لغزش کی راہ اختیار کی ہے۔
ایسے وقت میں جب امتِ مسلمہ فکری انتشار، دینی غفلت اور اعتقادی کمزوری کا شکار ہے، ہمیں ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم صحابہ کرامؓ کی عزت و عظمت کے تحفظ کو اپنی دینی ذمہ داری سمجھیں، اور ہر اس آواز کے خلاف خاموش نہ رہیں جو ہمارے اسلاف کی حرمت کے خلاف بلند ہو۔ یہ بات یاد رکھی جائے کہ صحابہ کرامؓ پر کیچڑ اچھال کر کوئی روشن خیال نہیں بنتا، بلکہ وہ خود فکری گمراہی کے دلدل میں اتر جاتا ہے۔
ہمیں سلمان ندوی صاحب سے یہی کہنا ہے کہ آپ اپنی فکری بصیرت کو واپس پائیں، اپنی زبان کو صحابہ کرامؓ کی عزت سے آلودہ نہ کریں، اور اس امت کی نوجوان نسل کو اس تاریخی زہر سے بچائیں جو آپ کی حالیہ گفتگوؤں میں نمایاں ہو چکا ہے۔
امت کی بقاء، اسلاف کے وقار، اور دین کی سچائی کا تقاضا یہی ہے کہ ہم خلفائے راشدین، اہل بیتؓ، اور دیگر صحابہ کرامؓ سب کے ساتھ محبت رکھیں، اور ان کے بارے میں وہی زبان استعمال کریں جو قرآن و سنت نے ہمیں سکھائی ہے: ادب، احترام، اور خاموشی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *