تواضع وانکساری اختیار کریں اللہ تعالیٰ بلندی عطافرمائےگا
تواضع وانکساری اختیار کریں،اللہ تعالیٰ بلندی عطافرمائےگا
از: محمد شمیم احمد نوری مصباحی
خادم : دارالعلوم انوارمصطفیٰ سہلاؤشریف ، باڑمیر (راجستھان)
دین اسلام بہت سی خوبیوں کا مرقع ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے ماننے والے بھی بے پناہ خوبیوں اور صفات سے مزین ہو جاتے ہیں۔ ان اعلیٰ اور پسندیدہ صفات میں ایک بڑی خوبی کسی شخص کا متواضع ومنکسر المزاج ہونا بھی ہے۔ یہ بات طے شدہ ہے کہ متواضع انسان سے ہر کوئی محبت کرتا ہے ۔ اس کے برعکس متکبر شخص معاشرے میں برا اور ناپسندیدہ سمجھا جاتا ہے۔ عموماً ہم اپنی گفتگو میں کسی شخص کی صفت بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں:
دیکھیے! فلاں شخص تو بہت تواضع وانکساری کے ساتھ پیش آتاہے۔ چلیے! اس سے مل لیاجائے کیونکہ وہ بڑا منکسر المزاج واقع ہواہے۔ اللہ کے رسول ﷺ نے اپنی امت کو جو رہنما اصول عطا فرمائے ہیں
ان میں ایک اہم اصول تواضع وانکساری بھی ہے۔ تواضع کیا ہے؟ دل میں کشادگی رکھنا، عجز و انکسار کو اپنانا، بندگان خدا سے محبت کرنا، اُن کی مدد اور اُن کے ساتھ حسن سلوک کرنا، وغیرہ۔ یہ لفظ کئی قیمتی صفات کو جامع ہے ، اللہ تعالیٰ تواضع کرنے والوں کو رفعت وبلندی عطا کرتا ہے۔ تواضع کے معنی ہیں:’’عجزو انکسار، اپنے آپ کو فروتر سمجھنا، دوسروں کوحسب ِ مراتب احترام دینا‘‘، اس کے ایک معنی ہیں:
’’حق کے آگے سرِ تسلیم خم کرنا اور شریعت کے حکم کو بلاچوں وچرا تسلیم کرنا۔‘‘ تواضع عربی زبان کالفظ ہے آسان لفظوں میں اس کا معنیٰ اپنے آپ کو کم درجہ سمجھنا ہے جب کہ محض اپنے آپ کو کم درجہ والا کہنا تواضع نہیں،جیسا کہ آج کل لوگ تواضع اس کو سمجھتے ہیں کہ اپنے لیے تواضع وانکساری کے الفاظ استعمال کرلیے مثلاً اپنے آپ کو “احقر” کہہ دیا “ناچیز “یا “ناکارہ” کہہ دیا، یا پھر “خطاکار وگنہگار”کہہ ولکھ دیا اور یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ محض ان الفاظ کے استعمال کردینے سے تواضع وانکساری حاصل ہوجائےگی
حالانکہ اپنے آپ کو کمتر کہنا تواضع نہیں بلکہ کمتر سمجھنا تواضع ہے،مثلاً یوں سمجھے کہ میری کوئی حیثیت، کوئی حقیقت نہیں،اگر میں کوئی اچھاکام کررہا ہوں تو یہ محض اللہ تعالیٰ کی توفیق ہے،اس کی عنایت اور مہربانی ہے،اس میں میرا کوئی کمال نہیں یہ ہے تواضع وانکساری کی حقیقت،جب یہ حقیقت حاصل ہوجائے تو اس کے بعد زبان سے اپنے آپ کو (حقیر،فقیر،ناچیز،ناکارہ وغیرہ)کہو یا نہ کہو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، جو شخص تواضع وانکساری کی اس حقیقت کو حاصل کرلیتا ہے اللہ تعالیٰ اسے بلند مقام عطا فرمادیتاہے
جیساکہ حدیث مبارکہ ہے “عن ابن عباس رضی اللہ عنه عن رسول الله ﷺ قال: مامن آدمی الا فی راسه حکمة بید ملک،فاذا تواضع قیل للملک:ارفع، حکمته، واذا تکبر قیل: ضع حکمته ” حضرت عبداللہ بن عباس [رضی اللہ تعالیٰ عنہما] سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ہر آدمی جس کے سر میں حکمت ودانائی ہے،جو ایک فرشتہ کے ہاتھ میں ہوتی ہے،بندہ جب تواضع وانکساری اختیار کرتا ہے تو فرشتہ کو حکم ہوتا ہے کہ اس کی حکمت و دانائی میں اضافہ کر دو،عزت بلند کردو اور جب بندہ تکبر وغرور کی راہ اختیار کرتا ہے تو فرشتہ کو حکم ہوتا ہے اس کی حکمت کو ضائع وختم کردو۔ ہم اللہ کے بندے ہیں اور ہمارے لیے بندگی ہی اچھی لگتی ہے،خاکی النسل ہیں
لہٰذا خاکئ النسل [منکسرالمزاج] بن کر زندگی گذار دیں-جب کہ شیطان ہمیں آتشی النسل بن کر زندگی گذارنے کی تلقین کرتا ہے، خاک [مٹی] پاؤں کے نیچے رہے تو ہر بندہ پسند کرتا ہے-اگر پاؤں کے نیچے سے اڑ کر کپڑوں پر آ گرے تو لوگ فوراً جھاڑ دیتے ہیں، چہرے پر آ پڑے توبھی لوگ فوراً دھو دیتے ہیں لہذا خاک کو عاجزی وانکساری ہی زیبا ہے
جب تک یہ پاؤں کے نیچے رہے اس وقت تک اس کی عظمت وقدر ہے اور جب یہ نیچے سے اوپر ہونے کی کوشش کرتی ہے تو ہر بندہ اسے ناپسند کرتا ہے اور اسے مٹانے کی کوشش کرتا ہے، بالکل اسی طرح جو انسان آتشی النسل بن کر آگ کے شراروں کی طرح اونچا اٹھنا چاہتا ہےپروردگارعالم اس کا نام ونشان مٹادیتا ہے جب کہ یہی انسان جب اپنے آپ کو خاکی سمجھتے ہوئے عجزوانکساری کواپناتا ہے تو اللہ وحدہ لاشریک اسے بلندی عطافرما دیتا ہے-آئییے دیکھیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ کی تواضع وانکساری کا کیا عالم تھا؟
حضور نبی رحمت ﷺ کی تواضع کا یہ عالم تھا کہ آپ اپنے پیچھے صحابہ کی بھیڑ چلنا بھی پسند نہ فرماتے تھے جیسا کہ حضرت ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضور نبی کریم ﷺ شدید گرمی کے دن بقیع کی طرف تشریف لے چلے، لوگ آپ کے پیچھے چل رہے تھے، جب آپ نے پیچھے جوتوں کی آواز سنی تو اسے اپنی توقیر کا ذریعہ سمجھا اور آپ فوراً بیٹھ گئے اور حضرات صحابہ کو آگے بڑھا دیا تاکہ آپ کے دل میں تکبر کا شائبہ نہ آ جائے
حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ پیغمبر اسلام علیہ السلام بیماروں کی مزاج پرسی فرماتے، جنازہ میں شرکت کرتے اور غلام کی دعوت بھی قبول فرما لیتے اور ضرورت پڑنے پر دوسروں کو پیچھے بٹھا کر درازگوش کی سواری میں بھی عار محسوس نہ فرماتے، غزوہ خیبر اور غزوہ بنی قریظہ میں آپ ایسے گھوڑے پر سوار تھے جس کی نکیل کھجور کی رسی کی تھی اور اس پر کھجور کی چھال سے بنی ہوئی کاٹھی تھی۔ حضرت عبداللہ بن عباس [رضی اللہ تعالیٰ عنہما] فرماتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ زمین پر بے تکلف بیٹھ جاتے اور زمین پر بیٹھ کر کھانا تناول فرماتے اور بکریوں کو خود باندھ دیتے اور غلام کی دعوت بھی قبول فرما لیتے تھے
ایک حدیث میں حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ جب کوئی شخص حضور اقدس ﷺ سے ملاقات کے وقت مصافحہ کرتا تو آپ اپنا ہاتھ اس وقت تک نہیں کھینچتے تھے جب تک دوسرا شخص اپنا ہاتھ نہ کھینچ لے اور آپ اپنا چہرہ اس وقت تک نہیں پھیرتے تھے جب تک ملاقات کرنے والا شخص خود اپنا چہرہ نہ پھیر لے، جب آپ مسلسل مجلس میں بیٹھتے تو اپنا گھٹنا بھی دوسروں سے آگے نہیں کرتے تھے یعنی امتیازی شان سے نہیں بیٹھتے تھے۔
بعض روایات میں آتا ہے کہ شروع شروع میں جس طرح اور لوگ مجلس میں آ کر بیٹھ جاتے آپ [ﷺ] بھی ان کے ساتھ مل جل کر بیٹھ جاتے، نہ تو بیٹھنے میں کوئی امتیازی شان ہوتی تھی اور نہ ہی چلنے میں لیکن بعد میں یہ ہوا کہ جب کوئی اجنبی شخص مجلس میں آتا تو اس کو آپ کو پہچاننے میں تکلیف ہوتی، اس کو پتہ نہ چلتا کہ ان میں حضور اقدس ﷺ کون سے ہیں؟
اور بعض اوقات جب مجمع زیادہ ہوتا تو پیچھے والوں کو آپ کی زیارت کرنی مشکل ہوتی اور سب لوگوں کی یہ خواہش ہوتی تھی کہ ہم حضور کی زیارت کریں، اس وقت صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین نے حضور نبی رحمت ﷺ سے درخواست کی کہ یا رسول اللہ![ﷺ] آپ اپنے لیے کوئی اونچی جگہ بنوائیں اور اس پر بیٹھ کر بات کیا کریں، تاکہ آنے والوں کو پتہ بھی چل جائے اور سب لوگ آپ کی زیارت بھی کر لیا کریں، اور بات سننے میں بھی سہولت اور آسانی ہو، اس وقت آپ نے اجازت دے دی اور آپ کے لیے ایک چوکی بنا دی گئی جس پر آپ تشریف فرما کر باتیں کیا کرتے تھے
یہ سب باتیں آپ کی اعلیٰ ترین تواضع وانکساری کی نظیر تھیں کہ ہر کمال وخوبی سے متصف ہونے کے باوجود آپ کی حیات طیبہ ان تکلفات سے قطعاً خالی تھی جو نام نہاد بڑے لوگوں میں پائے جاتے ہیں۔
اس لیے ہم سبھی مسلمانوں کوچاہییے کہ ہم حضور نبی رحمت ﷺ کی سیرت طیبہ کو اپناآئیڈیل بناتے ہوئے تواضع وانکساری اپنے اندر پیداکریں اور تکبر وغرور سے ہر حال میں بچیں ویسے بھی انسان جس قدر متواضع ہوتا ہے اسی قدر اسے بلندی نصیب ہوتی ہے جیساکہ صادق ومصدوق رسول رحمت ﷺ کافرمان عالی شان ہے قال رسول الله ﷺ: “من تواضع لله رفعه الله” یعنی “جوشخص اللہ کے لیے تواضع اختیار کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو بلندی سے سرفراز کردیتا ہے۔


Pingback: دارالعلوم انوارمصطفیٰ سہلاؤشریف میں جشن افتتاح بخاری شریف ⋆ محمد شمیم انور