ابوابِ زندگی کا بابِ نکاح
ابوابِ زندگی کا بابِ نکاح
تحریر: محمد تفسیر القادری احمدی پیلی بھیت
زندگی ایک مسلسل سفر ہے، جو لمحہ بہ لمحہ، مرحلہ بہ مرحلہ اپنی راہوں پر آگے بڑھتی ہے۔ انسان اس مسافت حیات میں مختلف ابواب سے گزرتا ہے
بچپن، لڑکپن، جوانی، بڑھاپا، اور بالآخر فنا کی دہلیز پر پڑاؤ۔ ان ابوابِ زندگی میں ایک باب نہایت مقدس، سنجیدہ اور حیات آفریں ہے — “ازدواجی تعلق کی شروعات”۔
ازدواجی تعلق کیا ہے؟ازدواجی تعلق صرف مرد و عورت کا جسمانی میل نہیں، بلکہ دو روحوں کا پاکیزہ اتحاد ہے۔ یہ وہ رشتہ ہے جس میں وفا کا ساز بجتا ہے، محبت کی خوشبو مہکتی ہے
اور زندگی میں سکون کی فصل اگتی ہے۔ قرآن نے اس کو “میثاقاً غلیظاً” یعنی مضبوط عہد کہا، اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:”النکاح سنتی، فمن رغب عن سنتی فلیس منی”(نکاح میری سنت ہے، جو اس سے روگردانی کرے وہ میرے طریقے پر نہیں)ازدواجی تعلق کی ابتدا
فقط رسم یا عبادت؟آج کے مادی معاشرے میں شادی محض ایک تقریب بن کر رہ گئی ہے: روشنیاں، مہمان نوازی، فیشن، اور لمبے فوٹو سیشنز۔ لیکن اصل میں، نکاح وہ مقدس بندھن ہے جس سے انسانی سماج کی بقاء وابستہ ہے۔
اسلام نے ازدواجی تعلق کو محض جنسی خواہشات کی تسکین کے بجائے، ایک عبادت کا درجہ دیا۔نکاح کی ابتدا میں سب سے اہم ہے نیت کا خلوص
کیا یہ تعلق اللہ کی رضا کے لیے ہے؟ کیا اس میں عفت، وفا اور برکت کی طلب ہے؟
نکاح کی بنیاد: علم، حلم اور محبتازدواجی زندگی کی بنیاد تین ستونوں پر رکھی جاتی ہے:1. علم — دین و دنیا کے حقوق و فرائض سے آگاہی
۔2. حِلم (بردباری) مزاجی اختلافات میں برداشت۔3. محبت — وہ قوت جو تلخیوں کو مٹھاس میں بدل دیتی ہے۔قرآن مجید نے فرمایا:”وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً”(اللہ نے تمہارے درمیان محبت و رحمت رکھ دی)یہ وہ دو چیزیں ہیں جو ایک کام یاب ازدواجی تعلق کی بنیاد بنتی ہیں۔ازدواجی تعلق کا آغاز
صرف نکاح کے دن سے؟اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ نکاح کے دن سے ہی ازدواجی تعلق کا آغاز ہوتا ہے، مگر درحقیقت یہ تعلق دو خاندانوں، دو سوچوں، دو مزاجوں، اور دو روحوں کے ملنے کا عمل ہے، جس کی ذہنی اور روحانی تیاری پہلے سے شروع ہونی چاہیے۔
ایک اچھا رشتہ تبھی کام یاب ہوتا ہے جب اس کی بنیاد میں توقعات کی جگہ ایثار ہو، فرائض پر زور ہو نہ کہ مطالبات پر، اور زبان پر شکایت کی جگہ شکر ہو۔ازدواجی زندگی کی شروعات میں چند رہنما نکات:1. دعا سے آغاز کریں — دل میں اللہ سے اخلاص مانگیں، کہ یہ سفر ایمان، عفت، اور سکون کا ہو
۔2. احترام کے اصول اپنائیں اختلاف ہو، تو لہجے میں تلخی نہ آئے
۔3. گفتگو میں شائستگی — محبت کی پہلی سیڑھی خوش کلامی ہے
۔4. ایک دوسرے کے گھر والوں کا لحاظ — سسرال کو دشمن نہیں، اپنا حصہ سمجھیں
۔5. معاشی اور نفسیاتی حقیقت پسندی — ہر شوہر عبدالرحمٰن اور ہر بیوی خدیجہ الکبریٰ نہیں ہوتی، مگر نیت دونوں کی ویسی ہو تو رنگ آتا ہے۔
ازدواجی تعلق کی شروعات — سنتِ نبوی ﷺ کے آئینے میں
رسول اکرم ﷺ کی ازدواجی زندگی ہمیں توازن، خلوص، عفت، محبت، اور برداشت کا کامل نمونہ دیتی ہے۔ام المؤمنین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے نکاح، ایک ایسی مثال ہے جہاں بیوی نے شوہر پر مکمل اعتماد کیا
اور شوہر نے ہر لمحہ وفا اور عزت کا پیکر بن کر دکھایا۔
حضرت علی اور حضرت فاطمہ کے ازدواجی تعلق کی شروعات میں سادگی، عبادت، قناعت، اور روحانیت نمایاں تھی۔ نہ جہیز کی طمع، نہ شان و شوکت کی نمائش — صرف ایک خالص تعلق۔
ازدواجی تعلق کی شروعات اور موجودہ فتنہ
آج کا نوجوان ازدواجی تعلق کو بوجھ، جبر، یا وقتی شوق سمجھ بیٹھا ہے۔ سوشل میڈیا کی فحاشی، فلموں کی مصنوعی رومانیت، اور اشتہارات کی چمک نے نکاح کو سنجیدہ عبادت کے بجائے محض ایک ایونٹ بنا دیا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم دوبارہ نکاح کو عبادت سمجھیں، ازدواجی تعلق کو اخلاقی فریضہ جانیں، اور اس میں دل، دماغ، اور دین تینوں کو شامل کریں۔
ازدواجی تعلق کی شروعات اگر نیت کی پاکیزگی، عمل کی سنت، دل کی محبت، اور زبان کی شائستگی سے ہو، تو وہ نہ صرف دو انسانوں کی زندگی سنوارتی ہے بلکہ آئندہ نسلوں کا اخلاقی، روحانی، اور معاشرتی مستقبل بھی روشن کرتی ہے۔
یہ تعلق محض دلوں کا نہیں، بلکہ نسلوں کا سنگم ہے — اگر اس کی شروعات اللہ اور رسول ﷺ کی تعلیمات کے تحت ہو تو یہ ایک دائمی جنت بن سکتا ہے۔