چاند پربہترین لینڈنگ شق القمرکا معجزہ اور چاند نبی الآخرالزماں کا کہلونا ہے

Spread the love

چندریان 3کی چاند پربہترین لینڈنگ

چندریان 3کی چاند پربہترین لینڈنگ

چندریان 3کی چاند پربہترین لینڈنگ

چندریان 3کی چاند پربہترین لینڈنگ شق القمرکا معجزہ اور چاند نبی

الآخرالزماں کا کہلونا ہے بروز بدھ23اگست 2023ہندوستان کا چاند مشن چندریان 3چاند کی سطح پرشام چھے بچکر پانچ منٹ پرامید سے بہتر اُترا چندریان 3کی براہ راست اسٹریمنگ اِ سروکی آفیشل ویب سائت ISRO.GOV.IN اور یوٹیوب پراِسرو آفیشل اور اِسرو کے فیس بُک پیج پر اور ٹی وی پر بھی براہ راست نشریہ دیکھاگیااور ہندوستانی فلائی تحقیق تنظیم ISROنے اس مشن کو لانچ کیاہے اس سے قبل روس کا چاندمشن لونا25 چاند کی سطح پر کریش ہوگیا لونا 25 کو ہندوستان سے دو دن قبل یعنی ۲۱ اگست کو چاندپراترناتھا لیکن وہ کریش ہوگیا ہندوستان کا چاند مشن چاند پر اترایہ ہندوستان کے لئے بڑی کامیابی ہے اور سارے ہندوستانیوں سینہ فخر سے اونچاہوگیا اس موقعہ پر محمد توحیدرضا علیمی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے انہوں کہا کہ اِسرو اور تمام سائنسدانوں کی محنتوں اور کاوشوں سے ہندوستان کا پرچم چاند کی سطح پر پہنچا اب ہندوستانی جہاں بھی جائیں گے اُن کی پہچان چاند کی سطح پر اترنے والے ملک سے ہوگی اس سے پہلے چندریان ۲ چاند پر صافٹ لینڈنگ نہیں کرسکا جس سے اِسرو اور تمام ہندوستانیوں کو صدمہ ہوا لیکن اصل کامیابی تو یہی ہوتی ہے کہ ہار سے سبق سیکھتے ہوئے آگے بڑھیں یہاں اسرونے یہی کیا اپنی گزشتہ خامیوں سے سبق سیکھتے ہوئے چندریان ۳ کو آخر کار چاند کی سطح پر کامیابی کے ساتھ اُتار دیا اور کامیاب ہوئے اور کہا ترقی یافتہ دور میں ہم سائنس کو نظر انداز نہیں کرسکتے اس لئے کہ پہلے ہوائی جہاز کا تصور نہیں تھے اُس زمانے کے لوگ ہوائوں میں پرواز کرنے کا انکار ضرور کرتے لیکن حالات بدل چکے ہیں سائنسدانوں کی کاوشوں سے آج بین الاقوامی خلائی اسٹیشن سیٹلائٹ موجود ہے ہوائی جہاز جو ہوائیں ہویا ابر ہورات ہویا دن جو راستہ طے شدہ ہے اسی راستے سے گزرتی ہوئی اپنی منزل تک پہنچ جاتی ہے اور اب تو ڈرون کیمرہ موجود ہے جس کو انسان کٹرول کرتا ہوا ویڈیو گرافی ہویا نگرانی آسانی کے ساتھ کرتا ہے اور فون سے آج دنیاکے کونے کونے وہ بھی بغیر تار کے بات کرسکتاہے بات کرنے والے کی آواز دنیا کے کونے کونے میں گونجتی ہے اور ضرورت پڑھنے پر آواز کو محفوظ بھی کیا جاتا ہے اسی بہت سی مثالیں ہم اور آپ کے روبرو موجود ہیں جس کا انکار نہیں کیا جاسکتا ۔اِسرواورملک کے تمام سائنسداں قابلِ مبارک باد ہیں کہ ملک ہندوستان کی ایک نئی پہچان تاریخ کے صفحات پر ثبت کیا

ہم زمینی مخلوق ہیں

ہم زمینی مخلوق ہیں اللہ پاک نے ہمیں زمینی مخلوق بنایااور ہم زمین پر اپنی زندگی کے بیش قیمت ایام گزاررہے ہیں بچپن سے ہم چاند کو دیکھ تے چلے آرہے ہیں سوال توہرایک کے دل میں پیدا ہوتا ہے کہ کیا چاند پر بھی کوئی مخلوق بستی ہے چاند کی دنیاکیسی ہوگی ہم مسلمانوں کا قرآنی عقیدہ ہے کہ اللہ پاک نے ساری مخلوقات کو عدم سے وجود نیست سے ہست میں لایاوہی ساری کائنات کا خالق و مالک ہے سورہ فاتحہ میں اللہ رب العزت نے فرمایا الحمد للہ رب العٰلمین ۔تمام تعریفیں اللہ کے لئے جو سارے جہاں کا مالک ہے مفسرین رب العٰلمین کی تفسیرمیںفرماتے ہیں کہ اللہ پاک نے اٹھارہ ہزار عالم پیدا

فرمائے عالمِ دنیا ان میں سے ایک ہے اور تفسیرروح البیان میں مذکورہے کہ اسی ہزار عالم ہیں اورتفسیر ابن کثیر میں بھی سترہ ہزار اٹھارہ ہزارکی تفسیر موجود ہے اور دیگر تفاسیرمیں بھی موجود ہے خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مخلوقات بے شمار ہیں اُن تمام مخلوقات کا خالق مالک رازق اللہ تعالیٰ ہے اب وہ مخلوق کیسی ہے کہاں کہاں رہتی ہے خالقِ کائنات بہتر جانتا ہے اور رحمن پارہ ۲۷ آیت نمبر ۲۹ میں اللہ پاک نے فرمایا ۔اسی کے منگتا ہیں جتنے آسمانوں اور زمین میںہیں اُسے ہر دن ایک کام ہے تو اپنے رب کی کون سی نعمت جھٹلائو گے ترجمہ کنزالایمان ۔اسی کی تفسیر میں مولانا نعیم الدین مرآدابادی رحمۃ اللہ علیہ تحریرکرتے ہیں کہ فرشتے ہوں یا جن یا انسان یا اور کوئی مخلوق کوئی بھی اس سے بے نیازنہیں سب اُس کے فضل کے محتاج ہیں اور زبان حال و قال سے اس کے حضور سائل ہیں اور سورہ سبا پارہ ۲۲ آیت نمبر1 میں اللہ رب العزت نے فرمایا ۔سب خوبیاں اللہ کو کہ اسی کامال ہے جوکچھ آسمانوں میں ہے اور جوکچھ زمین میں ۔یعنی ہرچیز کا مالک خالق اور حاکم اللہ تعالیٰ ہے اور ہر نعمت اسی کی طرف سے ہے،

حضور کے اشارہ پر چاند کا جُھک جانا جس چاند کو ہم روزانہ دیکھتے ہیں اسی چاند کی دنیا پراُترنے اور وہاں کے رازوں کوجاننے کی پوری دنیاکے سائنسداں کوشش کررہے ہیں وہاں پانی کی تلاش کی جارہی ہے چاند پر ملک بسانے کی تیاری بھی کی جارہی ہے جس چاند پر یہ سب کوشیشیں جاری ہیں وہ چاندتو ہمارے نبی حضرت محمد مصطفی ﷺ کا کھلوناہے امام ابن عساکر اور سیوطی نے روایت کیا ہے حدیث پاک میں ہے کہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ آپ کی نبوت پردلالت کرنے والی خاص نشانی نے مجھے آپ کے دین میں داخل ہونے کی ترغیب دی اورمیں نے آپ کے بچپن میں ایسے ایسے واقعات دیکھے عربی عبارت کا ترجمہ ہے۔میں نے آپ ﷺ کو جھولے میں چاند سے بات کرتے دیکھا اور جدھر آپ کی انگلی کا اشارہ ہوتا ادھر چاند کو جھکتے ہوئے دیکھا ،آپ ﷺ نے فرمایا میں چاندسے اور چاند مجھ سے باتیں کرتاتھا (زرقانی علی المواہب جلد ۱ الخصائص الکبری جلد۱) کیا شان ہے ہمارے نبی ﷺ کی بچپن شریف کی آپ مہد میں جھولا جھول رہے ہیں آپ کی انگشت مبارک جدھرجاتی چاند بھی اُدھر جھک جاتاہے اللہ تعالیٰ نے آسمان کے چاند کو کھلونا بنادیاتھا کہ محبوب خداﷺ اس سے کھیلا کریں اور محبوب نور تھے تو کھلونا بھی نور کاتھا(زرقانی علی المواہب خصائص کبرٰی قاضی عیاض فی الشفاء) تو عاشق صادق اعلیٰ حضرت امام احمدرضاخان فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں

چاند جھک جاتا جدھر انگلی اٹھاتے مہدمیں

کیا ہی چلتا تھا اشاروں پر کھلونا نور کا چاند بھی سجدہ کرتاہے

خصائص کبری جلد اول میں حضرت عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں مہدمیں جھولا جھولتا تھا اور جس وقت چاند عرش خدا کے نیچے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سجدہ کرتا تھا تو میں اس کے (سجدہ) میں گرنے کی آواز کو (مہد ) سے سنتاتھایہ ہمارے نبی کی شان ہے چاند کے دو ٹکڑے ہوگئے

اللہ پاک نے ہمارے نبی حضرت محمد مصطفی ﷺکو مالک کل بنایا ہے اور اللہ پاک خالق کُل ہے

خالق کل نے آپ کو مالک کُل بنادیا دونوں جہاں ہیں آپ کے قبضہ و اختیار میں

تو ہمارے نبیﷺ کے بیشمار معجزوں میں ایک معجزہ شق القمر کا بھی ہے اس کا ذکر قرآنِ مجید میں موجود ہے پارہ نمبر ۲۷سورہ قمر آیت نمبر ۱ اللہ پاک نے فرمایا ۔اقتربت الساعۃ وانشق القمر ۔پاس آئی قیامت اور شق ہوگیاچاند۔ترجمہ کنزالایمان ۔صحیح البخاری شریف باب انشقاق القمرجلد اول میں ہے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت فرماتے ہیں کہ مکہ والوں نے جب رسولُ اللہ ﷺ سے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ آپ ہمیں اپنی نبوت کی کوئی نشانی دکھائیں ؟ رسول اللہ ﷺ نے انہیں چاند کودو ٹکڑے کرکے دکھا یا یہاں تک کہ لوگوں نے حرا پہاڑ کو چاند کے ان دونوں ٹکڑوں کے درمیان دیکھا ۔

؎ جس نے ٹکڑے کیے ہیں قمر کہ ہیں وہ

نور وحدت کا ٹکڑا ہمارا نبی حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ روایت فرماتے ہیں کہ چاند کے دوٹکڑے ہوئے اُس وقت ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ منی میں تھے ۔فقال اشھدوا وذھبت فرقۃ نحوالجبل۔ہمارے نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا تم لوگ گواہ ہوجائو اور چاند کا ایک ٹکڑا پہاڑ کی طرف چلاگیا ( صحیح البخاری شریف باب انشقاق القمرجلد اول )حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنھما روایت فرماتے ہیں کہ عہدرسالت ماٰب ﷺ میں چاندشق ہوگیا

ڈوباہوا سورج واپس پلٹ آیا

چاند نے حضور ﷺ کے ایک اشارہ پراپنا سینہ چاک کردیا حضور رحمت دو عالم ﷺ کی انگلی کا اشارہ پاکرچاندآپ کا کھلونا بن گیا پیڑپودے جھک کر سلام عرض کرتے پہاڑوں سے الصلاۃ والسلام علیک یارسول اللہ کی صدائیں بلند ہوتیں ایک وقت ایسا بھی آیا کہ حضور مصطفی جان رحمت ﷺ کے اشارہ پر دوباہوا سورج واپس پلٹ آیا طبرانی فی المعجم الکبیراور شفاء شریف اور

الخصائص الکبری میںیہ حدیث رسول موجود ہے

حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنھا سے مروی ہے رسول اللہ ﷺ پر وحی نازل ہورہی تھی اور آپ ﷺ کا سر اقدس حضرت علی رضی اللہ عنہ کی گود میں تھا حضرت علی رضی اللہ عنہ عصر کی نماز نہ پڑھ سکے یہاں تک کہ سورج غروب ہوگیا حضور نبی کریم ﷺ نے دعا فرمائی اے اللہ علی تیری اور تیرے رسول کی اطاعت میں تھا اس پر سورج واپس لوٹا دے حضرت اسماء فرماتی ہیں کہ میں نے اسے غروب ہوتے ہوئے بھی دیکھا اور یہ بھی دیکھا کہ وہ غروب ہونے کے بعد دوبارہ طلوع ہوا اسے امام طحاوی اور طبرانی نے مذکورہ الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے

ہوا پر پرواز

آج سائنس اتنی ترقی کرچکی ہے کہ ہزاروں ٹن وزن سامان کو ہوائی جہاز کے ذریعہ اور دیگرذرائع کے ذریعہ ایک جگہ سے دوسری جگہ با آسانی پہنچا رہی ہے یہ سائنسی طاقت ہے جو اللہ پاک نے انہیں سمجھ بوجھ کی طاقت سے نوازا ہے اب چاند کی دنیا تک رسائی ہوچکی ہے تو اللہ پاک اور بھی اپنی قدرتِ کاملہ کے مضمرجو انسانوں سے پوشیدہ رکھے گئے ہیں وہ اللہ پاک چاہے تو ضرور آشکار ہوں گے اس کے آشکار ہونے میں بھی اللہ پاک کی کوئی نہ کوئی ضرور حکمت پنہاں ہے اور اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے حضرت سلیمان علیہ السلام بن دائود علیہ السلام کی حکومت تمام اہل دنیاپر عطاکی حضرت سلیمان علیہ السلام نے سات سو سال اور چھے ماہ تک حکومت کی جن میں تمام جن و انس شیاطین چوپائے اور درندے شامل تھے آپ علیہ السلام آندھی کو حکم دیتے تو وہ آپ علیہ السلام کو اٹھالیتی ہوا کو حکم دیتے تو آپ کو ساتھ لے کر چلتی اور اللہ تعالیٰ آپ کی طرف وحی فرماتا توآپ زمین و آسمان کے درمیان چل رہے ہوتے تھے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (اے سلیمان ) میں نے تمہاری بادشاہت میں یہ اضافہ کیا ہے کہ مخلوقات میں سے جو کوئی بھی جو بات کرے گا ہوا تجھے اس کے بارے میں بتادے گی ۔اس حدیث کو امام حاکم نے روایت کیا ہے یہ اللہ پاک کی قدرت ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام ہوا کو حکم دیتے تو ہوا آپ کو اور آپ کے ساتھ والوں کو اٹھالے جاتی تھی سبحان اللہ یہ ہوا پر پرواز ہے تحریر۔محمدتوحیدرضاعلیمی بنگلور امام مسجدرسول اللہ ﷺ خطیب مسجدرحیمیہ میسور روڈ جدید قرستان نوری فائونڈیشن بنگلور انڈیا

رابطہ۔9886402786

tauheedtauheedraza@gmail.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *