بخل بد ترین گناہ
بخل بد ترین گناہ!
از۔۔۔۔محمد محفوظ قادری،رام پور یوپی 9759824259
فرمان باری تعالیٰ ’’اور جو بخل کرتے ہیں اس چیز میں جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے دی ہر گز اسے اپنے لیے اچھا نہ سمجھیں بلکہ وہ ان کیلئے براہے عنقریب وہ جس میں بخل کیا قیامت کے دن ان کے گلے کا طوق ہوگا اور اللہ ہی وارث ہے آسمانوں اور زمینوں کا اور اللہ تمہارے کاموں سے خبر دار ہے‘‘۔(قرآن،سورئہ آل عمران آیت 180)بخل کہتے ہیں کہ جس جگہ شرعاً یا عادتاً خرچ کرنا واجب ہو وہاں خرچ نہ کرنا بخل ہے ۔زکوٰۃ ،صدقہ فطروغیرہ میں خرچ کرنا واجب ہے ،اسی طرح دوست احباب و عزیز اور رشتہ داروں پر خرچ کرنا عرفاً وعادتاً واجب ہے ۔(تفسیر صراط الجنان)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا آدمی کی دوعادتیں بُری ہیں ۔پہلی بخیل جو رُلانے والی ہے۔دوسری بزدلی جو ذلیل کرنے والی ہے ۔(ابوداؤد)
روایت میں آتاہے کہ ایک روز نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم طواف کر رہے تھے آپ نے ایک شخص کو دیکھا کہ کعبہ کے حلقہ کو پکڑ کر کہہ رہا تھا ،یا الٰہی! اپنے اس مقدس گھر کی برکت سے میرے گناہ بخش دے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے معلوم کیا تیرا گناہ کیا ہے؟اس نے جواب دیا میرا گناہ اتنا بڑا ہے کہ بیان نہیں کر سکتا ۔یہ سن کر آپ نے ارشاد فرمایا تیرا گناہ بڑاہے یا زمین ؟اُس نے کہا میرا گناہ بڑا ہے ،پھر آپ نے ارشاد فرمایا تیرا گناہ بڑاہے یا آسمان ؟
اُس نے کہا میرا گناہ بڑا ہے ۔پھر آپ نے ارشاد فرمایا تیرا گناہ بڑاہے یا عرش ؟اُس نے جواب دیا میرا گناہ!پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تیرا گناہ بڑاہے یا حق تعالیٰ؟اُ س نے جواب دیا حق تعالیٰ سب سے بڑا ہے
یہ سن کرنبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بیان کر تیرا کونسا گناہ ہے ،اُس نے کہا میں بہت مالدار ہوں لیکن جب کوئی درویش مجھے دور سے نظر آتاہے کہ میری طرف کو آرہا ہے تو میں سمجھتا ہوں (میری طرف کو)آگ آرہی ہے جو جلا دے گی (یعنی میں بخیل )ہوں۔یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جا میرے قریب سے دور ہو کہیں تیری آگ مجھے نہ جلادے ۔
قسم ہے اُس خدا کہ جس نے مجھے ہدایت کے لیے بھیجا ہے اگر تو رکن یمانی اور مقام ابراہیم کے درمیان ہزار برس بھی نماز پڑھے گا اور اِس قدر روئے کہ تیرے آنسئوں سے ندیاں بہہ جائیں اور ان سے درخت اُگ آئیں اور توبخل ہی کی حالت میں مرجائے تو تیرا مقام دوزخ ہوگا ،بخل کفر کی علامت ہے اور کفرکا ٹھکانا جہنم ہے۔
افسوس !کیاتونے نہیں سنا’’ ومن یبخل فانما یبخل عن نفسہ‘‘(قرآن) ’’ اور جو بخل کرے وہ اپنی ہی جان پر بخل کرتا ہے ‘‘۔حضرت کعب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہر روزہر شخص پر دو فرشتے( موکل) رہا کرتے ہیں اور ندا کرتے ہیں یاالٰہی ! جو بخیل ہو اُس کا مال تلف فرمادے ،اور جو سخی ہو اُس کے مال میں اضافہ فرمادے ۔
اِسی لیے امام اعظم ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ میں بخیل کو عادل نہیں کہوں گااور نہ اس کی گواہی سنوں گا کیونکہ بخل نے اس کو اِس بات پر آمادہ کیا ،کہ جو چیز اُس کے حق سے زیادہ ہے اُ س کو حاصل کر لے ۔’’یہ عدل کے خلا ف ہے ‘‘(کیمیائے سعادت)ایک منافق انتہائی بخیل تھا اُس نے اپنی بیوی کو قسم دی کہ اگر تو نے کسی کو کچھ دیا تو تجھ پر طلاق ہے ۔
ایک دن ایک سائل اُس کے دروازے پر آیا اور اُس نے خدا کے نام پر سوال کیا ،عورت نے اُس کو تین روٹیاں دے دیں ،فقیر کو واپسی میں وہی بخیل مل گیا معلوم کیا کہ تجھ کو یہ روٹیاں کس نے دی ہیں ؟
سائل نے اُس کے گھر کے متعلق اُس کو بتایا کہ مجھے وہاں سے ملی ہیں ۔بخیل تیز قدموں سے گھر کی طرف چل پڑا اور گھر پہنچ کر بیوی سے بولا کہ میں نے تجھے قسم دی تھے کہ کسی سائل کو کچھ نہیں دینا ؟بیوی نے جواب دیا کہ سائل نے اللہ کے نام پر سوال کیا تھا اس لئے بغیر کچھ دیئے مجھ سے رہا نہ گیا ۔
یہ سن کر کنجوس (بخیل ) نے جلدی سے تنور بھڑ کایا جب تنور سرخ ہو گیاتو بیوی سے کہا کہ اُٹھ اللہ کے نام پر تنور میں بھی داخل ہو جا ۔عورت کھڑی ہوگئی اور اپنے زیورات لیکر تنور کی طرف چل پڑی ،کنجوس نے چلا کر کہا کہ زیورات تو یہیں چھوڑ جا ۔
عورت نے جواب دیا کہ آج میرا محبوب سے ملاقات کا دن ہے ،میں اُس کی بارگاہ میں بن سنور کرجاؤں گی ،اور جلدی سے تنور میں داخل ہو گئی ۔
اُس بد بخت نے تنور کو بند کر دیا ۔جب تین دن گزر گئے تو اُس نے تنور کو کھولا اور دیکھ کر حیران رہ گیا کہ عورت اُس میں اللہ کی قدرت سے صحیح وسالم بیٹھی ہوئی تھی ۔ہاتفِ غیبی نے آواز دی کیا تجھے علم نہیں کہ آگ ہمارے دوستوں کو نہیں جلاتی۔(مکاشفتہ القلوب)
اسی لیے اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا وَمَن یُّوق شُح نَفسِہ فَاُولٰئِک ھُمُ المُفلِحُون۰(قرآن ،سورئہ حشر آیت 9)’’اور جو اپنے نفس کے لالچ سے بچالیا گیا تووہی لوگ کامیاب ہیں ‘‘۔اللہ رب العزت بخل سے ہماری حفاظت فرمائے ،اور عطاکئے ہوئے مال ودولت کو اپنی راہ اور اپنے بندوں پر خرچ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔(آمین)