اولاد کی تربیت

Spread the love

اولاد کی تربیت

تحریر: گلفضاء نوری

متعلمہ: جامعہ خوشتر رضائے فاطمہ گرلز اسکول، سوار، ضلع رامپور

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ:”ہر بچہ فطرتِ سلیمہ پر پیدا ہوتا ہے، پھر اس کے والدین اسے یہودی، نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں

۔”ایک اور جگہ ارشاد فرمایا:”جب انسان فوت ہو جاتا ہے تو اس کے تمام اعمال منقطع ہو جاتے ہیں، سوائے تین کے: صدقہ جاریہ، ایسا علم جس سے فائدہ اٹھایا جائے، اور نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرے

۔”اولاد اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت ہے، جس کا حقیقی شعور وہی شخص رکھتا ہے جو اس نعمت سے محروم ہو۔ عام طور پر جنہیں یہ نعمت میسر آتی ہے، وہ اس کی قدر نہیں کر پاتے اور بچوں کو وہ توجہ اور تربیت فراہم نہیں کرتے جو کہ دینی اور اخلاقی طور پر ازحد ضروری ہے۔

زبان سے دعویٰ ضرور کیا جاتا ہے، مگر عملی رویہ اس کے برعکس ہوتا ہے۔ اصل معیار صرف دعویٰ نہیں بلکہ نیت اور عمل کا خلوص ہے۔ہمارے بچوں کی ناکامی کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ والدین اور اساتذہ اکثر تربیت کے تقاضوں سے ناواقف ہوتے ہیں۔

ایک عمومی خیال یہ پایا جاتا ہے کہ بچوں کو مہنگے اداروں میں تعلیم دلانا ہی کامیاب تربیت کا ضامن ہے، حالانکہ تعلیم کے موجودہ حالات سب پر عیاں ہیں۔

نتیجتاً، وہ بچے جو تربیت سے محروم ہوتے ہیں، چاہے کتنے ہی اعلیٰ تعلیمی اداروں سے وابستہ ہوں یا بلند ڈگریاں حاصل کریں، عملی زندگی میں اکثر ناکام رہتے ہیں۔

ان کی توانائیاں معمولی اور غیر ضروری مسائل میں ضائع ہو جاتی ہیں۔جب کہ اچھی تعلیم و تربیت کے واضح اثرات ان صورتوں میں ظاہر ہونے چاہئیں:1. بااخلاق اور باکردار انسان2. والدین کا فرماں بردار بیٹا یا بیٹی3. سچا مسلمان اور مومن4. محبِ وطن5. با شعور اور مہذب شہریافسوس کہ ہماری موجودہ تعلیمی روش ان نتائج سے کوسوں دور ہے۔

عموماً گھروں میں والدین یہ گمان کرتے ہیں کہ بچوں کی تربیت صرف ماں کی ذمہ داری ہے، جب کہ بعض مائیں اسے مکمل طور پر باپ کے حوالے کر دیتی ہیں۔ یوں جب تھکے ہارے باپ گھر لوٹتے ہیں، تو ماں بچوں کو ان کے حوالے کر دیتی ہے۔

اس کی توجیہ یہ دی جاتی ہے کہ “سارا دن ہم بچوں کے ساتھ رہی ہیں، اب آپ کی باری ہے۔” دوسری طرف، باپ یہ امید کرتا ہے کہ وہ گھر آ کر سکون پائے اور بچے ماں سنبھالے۔

اس طرزِ عمل کا براہِ راست اثر بچوں کی شخصیت پر پڑتا ہے۔لہٰذا والدین کو اپنی مشترکہ ذمہ داری کو تسلیم کرتے ہوئے بچوں کی تعلیم و تربیت میں باہمی تعاون اور سنجیدگی اختیار کرنی ہوگی۔

کامیاب بچہ، کامیاب انسان

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا، پھر تم انسان بن کر زمین میں پھیل گئے(سورۃ الروم، آیت 20)

اکثر والدین یہ کہہ کر غفلت برتتے ہیں کہ “ابھی تو یہ بچہ ہے”، حالانکہ یہ بہت بڑی غلط فہمی ہے۔ یاد رکھیے، کامیاب بچہ ہی کامیاب انسان بنتا ہے۔

وہ بچہ جسے ہم ابھی ناسمجھ سمجھتے ہیں، درحقیقت ایک مکمل انسان ہوتا ہے، فرق صرف ظاہری جسامت اور ضروریات کا ہوتا ہے۔ تحقیق سے یہ بات بھی ثابت ہو چکی ہے کہ سات سال کی عمر سے بچوں کی سیکھنے، سمجھنے اور محسوس کرنے کی صلاحیت بہت زیادہ فعال ہو جاتی ہے۔

اگر آپ اپنے بچے کو کامیاب بنانا چاہتے ہیں تو اس کی تربیت پیدائش سے پہلے ہی شروع کرنی ہوگی۔ بعض لوگوں کو یہ بات تعجب خیز لگتی ہے کہ تربیت کا آغاز پیدائش سے قبل کیسے ہو سکتا ہے؟

مگر حقیقت یہ ہے کہ انبیاء اور صالحین کی سیرت سے ہمیں یہی سبق ملتا ہے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دعا کی:ربّ ہب لی من الصالحین”اے میرے رب! مجھے نیک اولاد عطا فرما(سورۃ الصافات، آیات 100-101)

اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرماتے ہوئے انہیں حضرت اسماعیل علیہ السلام جیسا صابر و بردبار بیٹا عطا فرمایا۔

اسی طرح حضرت زکریا علیہ السلام نے دعا کی:رَبِّ هَبْ لِي مِن لَّدُنكَ ذُرِّيَّةً طَيِّبَةً”اے میرے رب! مجھے اپنی طرف سے پاکیزہ اولاد عطا فرما”(سورۃ آل عمران، آیت 38)

حضرت مریمؑ کی والدہ نے حمل کے دوران ہی اپنی ہونے والی اولاد کو اللہ کی راہ میں وقف کرنے کا عزم ظاہر کیا۔

سورۃ آل عمران میں ان کا قول یوں مذکور ہے:اے میرے رب! میں نے اپنے پیٹ میں جو کچھ ہے، اسے تیرے لیے نذر کر دیا ہے(سورۃ آل عمران، آیات 35 تا 37)

مفسرین کرام نے ان آیات سے یہ اہم نکات اخذ کیے ہیں:1. تربیت کی بنیاد دعا ہے، اور اس کا آغاز حمل کے دوران ہونا چاہیے

.2 ماں اور باپ کو باہمی مشورے سے نام اور تربیت کا طریق کار طے کرنا چاہیے

۔3. جو والدین قبل از پیدائش دعاؤں کا اہتمام کرتے ہیں

ان کی اولاد پر اس کے اثرات واضح ہوتے ہیں

۔4. اولاد صرف اللہ تعالیٰ کی عطا ہے، اس لیے اسی سے مانگنی چاہیے

۔5. اولاد کی تربیت دینِ اسلام کے اصولوں کے مطابق ہونی چاہیے

۔6. اولاد کا پہلا اور سب سے بڑا حق، دینی تربیت ہے۔

والدین مکمل طور پر ذمہ دار ہیں حضرت عبد اللہ بن عمرؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:تم میں سے ہر ایک نگران ہے اور ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہوگا (صحیح بخاری، 893 | صحیح مسلم، 1829)

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ بچوں کے کردار، عادات اور سوچ کی مکمل ذمہ داری والدین پر عائد ہوتی ہے، نہ کہ صرف اساتذہ پر۔

والدین کو چاہیے کہ وہ عملی اقدامات کریں:1. بچوں کو عمل سے سکھائیں:بچے زیادہ تر مشاہدے سے سیکھتے ہیں

۔ اگر والدین چاہتے ہیں کہ بچے صبر و تحمل، سچائی اور اخلاق اپنائیں تو ان صفات کا مظاہرہ خود بھی کریں

۔2. حوصلہ افزائی کریں:بچوں کی کوششوں کو سراہیں، غلطیوں پر ڈانٹنے کے بجائے اصلاح کا پہلو اختیار کریں

۔3. بچوں کے ساتھ وقت گزاریں:والدین کو چاہیے کہ وہ روزانہ کچھ وقت بچوں کے ساتھ گزاریں، ان سے بات چیت کریں، گھر کے معاملات میں مشورہ دیں تاکہ بچوں کو احساس ہو کہ وہ اہم ہیں

۔4. اپنے آپ کو پہلے بدلیں:اگر پھل بدلنا ہو تو بیج بدلنا پڑتا ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ خود کو بہتر بنائیں تاکہ ان کی اولاد بھی بہتر بن سکے۔5. دینی تربیت کو ترجیح دیں:بچوں کو نماز کی تلقین کریں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:”جب بچہ سات سال کا ہو جائے تو اسے نماز کا حکم دو، اور جب دس سال کا ہو جائے تو نماز میں کوتاہی پر سختی کرو

۔”6. گھر کا ماحول سازگار بنائیں:والدین بلند آواز میں نہ بولیں، بچوں کے سامنے آپسی جھگڑوں سے پرہیز کریں تاکہ بچے اعتماد، سکون اور مثبت رویوں کے ساتھ پروان چڑھ سکیں۔

قیامت کے دن سوال ہوگاقرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو اس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے(سورۃ التحریم، آیت 6)

یہ آیت اس بات کی تاکید کرتی ہے کہ اپنی اور اپنی اولاد کی تربیت صرف دنیاوی کامیابی کے لیے نہیں، بلکہ آخرت کی فلاح کے لیے بھی ضروری ہے۔

اولاد کی تربیت ایک مقدس فریضہ اور عظیم امانت ہے، جسے والدین کو شعور، دعا، اخلاص اور عملی اقدامات کے ذریعے انجام دینا چاہیے۔

یاد رکھیے! وہ اولاد جو نیکی، اخلاق اور دین پر پروان چڑھے، نہ صرف دنیا میں والدین کے لیے باعثِ سکون بنتی ہے، بلکہ آخرت میں بھی ان کے درجات کی بلندی کا سبب بنتی ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اس ذمہ داری کو سمجھنے، نبھانے اور اپنی اولاد کو نیک اور صالح بنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *