نیک کاموں میں دیری کیوں

Spread the love

نیک کاموں میں دیری کیوں

آج کا عمل ہی کل کی نجات کا ذریعہ ہے

از: محمد شمیم احمد نوری مصباحی
خادم: دارالعلوم انوارِ مصطفیٰ، سہلاؤ شریف، باڑمیر (راجستھان)

اللہ تعالیٰ کے بے شمار احسانات میں سے انسان پر ایک عظیم احسان یہ ہے کہ اسے ایمان اور اعمالِ صالحہ کا راستہ عطا فرمایا، اور وقت کی مہلت دے کر بھلائیوں کے ذخیرے اکٹھا کرنے کا موقع بخشا۔
مگر افسوس! انسان غفلتوں کی دلدل میں ایسا دھنستا ہے کہ اپنی زندگی کے ان قیمتی لمحوں کو ضائع کر دیتا ہے جن میں اس کی دنیا و آخرت سنور سکتی تھی۔

رسولِ اکرم ﷺ نے بڑی محبت اور دلسوزی کے ساتھ امت کو خبردار فرمایا:

“نیک اعمال میں جلدی کرو، اس سے پہلے کہ تم پر ایسی فقر و تنگ دستی آ جائے جو تمہیں غفلت میں ڈال دے، یا ایسی دولت آ جائے جو تمہیں سرکش بنا دے، یا ایسا مرض آ جائے جو تمہیں برباد کر دے، یا ایسا بڑھاپا آ جائے جو عقل و فہم کو مٹا دے، یا اچانک موت آ جائے، یا دجال کا فتنہ ظاہر ہو، جو بدترین غائب چیز ہے جس کا انتظار ہے، یا قیامت آ جائے، اور قیامت تو سب سے سخت اور تلخ مصیبت ہے۔”
(صحیح مسلم)

یہ حدیثِ مبارکہ ہر مومن کے دل میں ہلچل پیدا کرنے والی ہے۔
نبیٔ رحمت ﷺ نے واضح انداز میں متنبہ فرمایا کہ زندگی کے یہ چند سنہرے دن غفلت میں نہ گزارو۔ نیکیوں میں سستی، ٹال مٹول، اور وقت کے ضیاع سے باز آؤ، کیونکہ مصیبتوں، آزمائشوں، اور حادثوں کا دروازہ ہر وقت کھلا ہوا ہے۔

زندگی کی ناپائیداری اور نیکی کی ضرورت:

آج دنیا کی رنگینیوں، عیش و عشرت، اور فانی خوشیوں نے ہمیں ایسا مدہوش کر رکھا ہے کہ ہم اپنے اصل مقصد یعنی
“اللہ ورسول کی رضا اور آخرت کی کامیابی” کو بھلا بیٹھے ہیں۔

کبھی فقر و فاقہ انسان کو توڑ کر رکھ دیتا ہے، کبھی مال و دولت کا نشہ اسے سرکش اور غافل بنا دیتا ہے۔
کبھی صحت کی بے فکری میں نیکیاں مؤخر ہوتی ہیں، اور اچانک بیماری کی زنجیروں میں جکڑ کر انسان حسرتوں کا اسیر بن جاتا ہے۔
کبھی بڑھاپے کی ناتوانی انسان کو بےبس کر دیتی ہے، اور کبھی موت آ کر سنبھلنے کا موقع ہی نہیں دیتی۔

یاد رکھئے!

“جو وقت گزر جائے، وہ کبھی واپس نہیں آتا، اور جو مہلت کھو جائے، وہ کبھی دوبارہ نہیں ملتی!”

اسی لیے نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

“پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت جانو: بڑھاپے سے پہلے جوانی کو، بیماری سے پہلے صحت کو، تنگدستی سے پہلے مالداری کو، مصروفیت سے پہلے فرصت کو، اور موت سے پہلے زندگی کو۔”
(مستدرک حاکم)

نیکی میں جلدی کیوں ضروری ہے؟

زندگی کا ہر لمحہ اللہ تعالیٰ کی ایک امانت ہے۔

موت کی گھڑی غیر متوقع ہے، کوئی خبر نہیں کب بلاواآجائے۔

اعمالِ صالحہ ہی وہ توشہ ہے جو قبر کی تاریکیوں میں روشنی دے گا۔

قرآنِ مقدس کا حکم ہے:

” اور اپنے رب کی بخشش کی طرف دوڑو، اور ایسی جنت کی طرف سبقت کرو جس کی چوڑائی آسمانوں اور زمین کے برابر ہے۔”
(آل عمران: 133)

حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے:

“دنیا تین دنوں کا نام ہے: کل گزر گیا، جو اب تیرے ہاتھ سے نکل چکا؛ آج تیرے پاس ہے، جس سے فائدہ اٹھا سکتا ہے؛ اور کل ایک امید ہے، جس کی کوئی ضمانت نہیں!”

لہٰذا عقلمندی اسی میں ہے کہ موجودہ لمحے کو قیمتی سمجھ کر اس میں بھلائیوں کے موتی چن لیے جائیں۔

آج کا وقت، کل کی امید پر قربان نہ کریں!

کتنے ہی لوگ تھے جو کل کے ارادے باندھتے رہے، مگر ان کے نصیب میں آج کی مہلت بھی نہ رہی۔
لہٰذا جو موقع ہاتھ آیا ہے، اس میں:

توبہ،نماز،قرآنِ پاک کی تلاوت، ذکر و دعا،صدقہ وخیرات، والدین کی خدمت،صلہ رحمی،
دعوت و تبلیغ،علم دین کا حصول،اور اصلاحِ نفس وغیرہ
کی بھرپور کوشش کرنی چاہیے۔

یاد رکھیں!

“جو شخص ایک نیکی کا ارادہ کرے تو اللہ تعالیٰ اسے ایک نیکی کا اجر لکھ دیتا ہے، اور جو اس پر عمل کرے تو دس گنا یا اس سے بھی زیادہ بڑھا دیتا ہے۔”
(صحیح بخاری و مسلم)

نیکیوں کی دوڑ میں سبقت لے جانے والے:

صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی زندگیاں نیکیوں میں سبقت لینے کا عظیم نمونہ ہیں۔
ان کی فکر تھی کہ کوئی عمل چھوٹ نہ جائے اور کسی خیر کے میدان میں پیچھے نہ رہ جائیں۔

حضرت ابوبکر صدیق صدیق ہر خیر میں اولین تھے۔

حضرت عمر فاروق اعظم ہر نیکی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔

حضرت عثمان غنی نے تبوک کے لشکر کو مال سے بھر دیا۔

حضرت علی مرتضیٰ نے علم و عمل میں عظیم الشان مقام حاصل کیا۔

یہی وہ “سبقت لینے والے” ہیں جن کے متعلق قرآن فرماتا ہے:

“اور وہی لوگ نیکیوں میں دوڑ دھوپ کرتے ہیں اور سبقت لے جاتے ہیں۔”
(سورہ مؤمنون: 61)

ہمارا عہد:

آئیے! ہم سب مل کر سچے دل سے عہد کریں کہ:

نیکیوں کو کل پر نہیں چھوڑیں گے؛

توبہ کو مؤخر نہیں کریں گے؛

ہر دن کو اعمالِ صالحہ سے بھرنے کی فکر کریں گے؛

اپنے دل کو اللہ کی یاد سے زندہ رکھیں گے؛

اپنی صبحوں کو دعا سے، دنوں کو نیکی سے، اور راتوں کو توبہ سے منور کریں گے؛

اور اس سے پہلے کہ موت ہمیں عمل سے محروم کر دے، ہم اپنے رب کے پسندیدہ بندے بن جائیں گے۔

اللّٰهم اجعلنا من السابقين بالخيرات، ووفقنا للعمل الصالح قبل الممات، وحسن لنا الخاتمة، وارزقنا الفردوس الأعلى بلا حساب!

آمین یا رب العالمین بجاہ سیدالمرسلین (ﷺ)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *