عبدالغفور کے گاؤں سریاں اختیار کو چہار جانب سے جوڑا جائے گا

Spread the love

عبدالغفور کے گاؤں سریاں اختیار کو چہار جانب سے جوڑا جائے گا ، مقبرہ بہار ہیریٹیج میں ہوگا شامل : محمد رفیع

اشفاق کریم کے مشورہ پر عبدالغفور میموریل فاؤنڈیشن کے وفد کا سریاں اختیار کا ہوا دورہ

گوپال گنج

گزشتہ دنوں بہار کے واحد مسلم وزیر اعلیٰ مرحوم عبد الغفور صاحب کے آبائی گاؤں سریاں اختیار، بلاک مانجھا گڈھ، ضلع گوپال گنج میں عبد الغفور میموریل فاؤنڈیشن کے صدر جناب منہاج ڈھاکوی، سیکریٹری جناب محمد رفیع صاحب جو قومی اساتذہ تنظیم بہار کے ریاستی کنوینر بھی ہیں ایک مؤقر وفد کےساتھ پہنچے۔

مقامی لوگوں اور عبد الغفور صاحب مرحوم کے اہل خانہ سے ملاقات کی۔ مرحوم وزیر اعلیٰ کے آبائی مکان کا دورہ کیا۔ بالخصوص جناب عبد الغفور صاحب کے مقبره پر فاتحہ خوانی کی۔ اس موقع پر سیکریٹری عبدالغفور میموریل فاؤنڈیشن جناب محمد رفیع نے کہا کہ جس نے اپنے اجداد کو یاد کیا اس قوم کی ترقی کو کوئی روک نہیں سکتا۔

جناب رفیع نے کہا کہ بقول ڈاکٹر احمد اشفاق کریم سرپرست اعلیٰ عبدالغفور میموریل فاؤنڈیشن عبدالغفور صاحب نہایت ہی شریف، نرم دل اور ایماندار تھے۔ گمنام ہو چکے اس معتبر نام و شخصیت کو زندہ کرنے کا فیصلہ عبدالغفور میموریل فاؤنڈیشن نے ڈاکٹر احمد اشفاق کریم کے مشورہ پر ہی اٹھایا ہے۔

اس فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام ایک طرف عبدالغفور صاحب کی شخصیت کو نمایاں کرنے اور دوسری جانب ان کے جیسا رہنما پیدا کرنے کی فکر ہے جو عبدالغفور صاحب سے بھی آگے تک کا سیاسی سفر طے کرے اور ان کے ادھورے خوابوں کو پورا کرے۔

جناب رفیع نے ان کے مقبرہ اور زمیں دوز ہو چکے مکان کو دیکھ کر گہرے افسوس کا اظہار کیا تو وہیں دوسری جانب عبدالغفور صاحب کے چچازاد بھتیجا جناب شہنشاہ عرف عبداللہ کے ساتھ ذاکر علی انصاری، رفیع احمد اور محمد علی ظفر کی سرگرمی اور فعالیت کو دیکھ کر خوشی کا اظہار کیا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ گوپال گنج ضلع میں داخل ہونے کے بعد یہ محسوس نہیں ہوتا ہے کہ ہم سابق وزیر اعلی بہار عبدالغفور صاحب کے ضلع میں ہیں۔ اس لئے جناب رفیع نے محمد علی ظفر اور ماسٹر علی رضا کو یہ ذمہ داری سونپی ہے کہ وہ سریاں اختیار گاؤں کا ایک جامع ایسا نظری نقشہ بنا کر دیں جو چہار جانب سے ضلع میں داخل ہونے والوں کو سریاں اختیار عبدالغفور صاحب کے مقبرہ اور گھر پر آنے میں دقتوں کا سامنہ نہ ہو۔ جناب رفیع نے یہ بھی ہدایت دی ہے کہ نظری نقشہ میں صاف صاف یہ بھی درج ہو کہ کہاں کہاں پر رہنما شائین بورڈ لگائے جائیں تاکہ مسافروں و سیاحوں کو کسی طرح کی کوئی پریشانی کا سامنا نہ ہو۔ جناب رفیع نے یقین دلایا کہ عبدالغفور صاحب کا مقبرہ اور گھر کو بہار ہیریٹیج میں وہ شامل کرائیں گے۔

انہوں نے افسوس ظاہر کیا کہ عبدالغفور صاحب کے نام سے جو روڈ ہے اس روڈ پر بھی ان کے نام کی تختی نہیں لگی ہے اور نہ ہی کوئی ان کے نام سے اس روڈ کا نام لیتا ہے۔ جناب رفیع نے کہا کہ لوگوں سے گفتگو کرنے پر عبدالغفور صاحب سے ان کی محبت چھلکتی ہے اور وہ یہ مانگ کرتے ہیں کہ ان کے نام سے بھی اسکول کالج کھولے جائیں۔ شہر میں ان کے نام سے ریلوے اسٹیشن اور اسٹیڈیم ہو۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ علاقے میں ایک بھی بہتر تعلیمی ادارہ نہیں ہے، بس صرف ایک ہائی اسکول جس کا نام دھرم پرشا ہے جس کا قیام عبدالغفور صاحب کی کاوشوں سے ہی ہوا تھا، محمد رفیع نے یہ مانگ بھی کی کہ اس اسکول کا نام عبدالغفور صاحب کے نام سے موسوم ہو۔

جناب رفیع نے کہا کہ گوپال گنج میں عبدالغفور ایئرپورٹ اور مرکزی یونیورسٹی کا بھی قیام ہو جس سے گوپال گنج کے عوام کو فائدہ پہنچے اور آنے والی نسلیں نہ صرف عبدالغفور صاحب کی شخصیت سے واقف ہو بلکہ ان کے لیے عبدالغفور نام آئیڈیل بن جائے۔

گاؤں اور ضلع گوپال گنج والوں کو فاؤنڈیشن کے صدر جناب منہاج ڈھاکوی نے یہ بتایا کہ ہر سال مرحوم کا یوم ولادت سریاں اختیار میں اور یومِ وفات پٹنہ میں منایا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ مرحوم کے مقبرہ کی جدید کاری کا کام اور ان کے گھر کے متعلق ان کے اہل خانہ کے مشورہ سے کوئی ایسا فیصلہ لیا جائے گا کہ آنے والی نسلیں یہ جان پائیں گی کہ گوپال گنج کے سریاں اختیار گاؤں میں ایسی شخصیت پیدا ہوئی تھی جو بہار کے سب سے بڑے عہدہ پر فائز ہوئے تھے یعنی وزیر اعلی بہار تھے۔ جناب ڈھاکوی نے یہ بھی کہا کہ دوسرے بڑے رہنماؤں کی طرح ہی عبدالغفور صاحب کے نام پر بہار میں بن رہے اقلیتی ہاسٹل اور تعلیمی اداروں کا نام رکھا جائے۔

مقامی لوگوں نے وفد کا گرم جوشی سے استقبال کیا۔ مقامی سطح پر جناب رفیع احمد صاحب جنرل سیکرٹری قومی اساتذہ تنظیم گوپال گنج، جناب محمد علی ظفر میڈیا انچارج قومی اساتذہ تنظیم گوپال گنج، جناب شہنشاہ عرف عبداللہ، جناب ظفر عالم، ذاکر علی انصاری صاحب بنگال فرنیچر ہاؤس بکھرور بازار، اشرف اسلام ندوی، محمد اسلام، جناب علی رضا، امام حسن اور عبدالغفور صاحب کے مجھلے بھائی رحمان صاحب کے صاحبزادے محمد مصطفیٰ جمال وغيره شامل تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *