حضرت پیر سید مہر علی شاہ گولڑوی کی دھنک رنگ شاعری
حضرت پیر سید مہر علی شاہ گولڑوی کی دھنک رنگ شاعری
از : طفیل احمد مصباحی
پیشوائے اہل سنت ، مجددِ عصر حضرت پیر سید مہر علی شاہ گولڑوی قدس سرہ ( متوفیٰ : ۱۳۵۶ ھ / ۱۹۳۷ ھ ) کی قاموسی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں ۔ آپ جامعِ شریعت و طریقت اور مروجہ علوم و فنون کے زبردست فاضل تھے ۔ عالمِ ربانی اور عارفِ لاثانی تھے اور سب سے بڑی بات یہ کہ چودھویں صدی کے مجدد ہونے کا نشانِ امتیاز بھی آپ کو حاصل تھا ۔ ” مہرِ جہاں تاب ” میں لکھا ہے کہ آپ کے استاذ گرامی محدث جلیل حضرت مولانا احمد علی سہارن پوری نے یہ پیشین گوئی فرمائی تھی کہ پیر سید مہر علی زمانہ کے مقتدا ہوں گے اور باطنی ولایت میں یگانۂ روزگار ہونے کے علاوہ ظاہری علم و فضل میں بھی تمام ہم عصروں میں ملک ہند میں سبقت لے جائیں گے ۔
استاذِ محترم کی پیشین گوئی سچ ثابت ہوئی اور آپ مہرِ جہاں تاب بن کر اس طرح چمکے کہ ہزاروں دلوں کو ایمان و ایقان کی روشنی بخشی اور دین و سنیت کی ایسی عظیم الشان خدمت انجام دی کہ دنیا آج بھی حیرت زدہ ہے ۔ دین و سنیت کی ترویج و توسیع اور گمراہ فرقوں کے رد و ابطال میں آپ نے اہم کردار ادا کیا ۔ مرزا غلام احمد قادیانی اور فتنۂ قادیانیت کے تابوت میں کیل ٹھوکنے میں آپ نے کوئی کسر نہ چھوڑی ۔
آپ ہر جہت سے منفرد و ممتاز تھے ۔ وقت کے اکابر علما و مشائخ نے آپ کی عظمت کا قصیدہ پڑھا ہے اور آپ کے علمی تبحر اور آپ کے دینی و علمی اور ملی کارناموں کو سراہا ہے ۔ مندرجہ ذیل کتب و رسائل آپ کے علمی تبحر پر دال ہیں : ( ۱ ) تحقيق الحق فی كلمۃ الحق ( ۲ ) شمس الہدایہ ( ۳ ) سيف چشتيائى ( ۴ ) اعلیٰ كلمۃ اللہ و ما اهل بہ لغير اللہ ( ۵ ) الفتوحات الصمديہ ( ۶ ) تصفيہ ما بين سنی و شيعہ ( ۷ ) فتاویٰ مہریہ
مرأۃ العرفان ( ۸ ) مکتوبات طیبات ( ۹ )
ملفوظات مہر علی شاہ ۔
آپ کی تہہ دار فکر و شخصیت کے بیشمار پہلو ہیں اور ہر پہلو اس قدر وسیع و ہمہ گیر ہے کہ اس کے احاطے کے لیے دفتر چاہیے ۔ دیگر اوصاف و کمالات سے قطعِ نظر یہاں صرف آپ کی شاعرانہ حیثیت پر گفتگو کی جا رہی ہے اور بحیثیتِ شاعر آپ کا تعارف پیش کیا جا رہا ہے ۔ شاعری آپ کے لیے وجہِ افتخار نہ تھی اور نہ آپ اس میدان کے آدمی تھے ۔ طبیعت موزوں پائی تھی اور میخانۂ روحانیت کے رند بھی تھے ، اس لیے جب کبھی حال کی کیفیت طاری ہوتی ، بے ساختہ زبان پر فکر انگیز روحانی اشعار مچلنے لگتے ۔
اس میں دو رائے نہیں کہ آپ اپنے وقت کے قادر الکلام اور منجھے ہوئے پُر گو صوفی شاعر تھے ۔ بیک وقت چار زبانوں میں شاعری کر کے آپ نے معاصرین کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا ہے ۔ اس معاملے میں آپ کے ہم عصر بزرگ حضور اعلیٰ حضرت اشرفی میاں کچھوچھوی علیہ الرحمہ ہی آپ کے مقابل و متبادل ہو سکتے ہیں
۔ ” مِرأۃ العرفان ” آپ کا اسم با مسمیٰ شعری مجموعہ ہے ، جس میں آپ کے اردو ، فارسی ، ہندی اور پنچابی کلام شامل ہیں ۔ اس کے مرتب و مدوّن فیض احمد فیض صاحب آپ کی شاعرانہ صلاحیتوں پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں :
اگرچہ آں جناب ( پیر سید مہر علی شاہ گولڑوی قدس سرہ ) کا مشغلہ شعر و شاعری نہیں تھا ، تاہم بعض اوقات بلا تکلف بطريقِ آمد آپ کی زبان مبارک سے بعض اشعار اور غزلیات منصۂ شہود پر آتے ہیں ، جو آپ کی قلبی کیفیات کے آئینہ دار ہیں ۔ حضرت کی بعض پنجابی نظمیں قبول عام حاصل کر چکی ہیں اور بے پناہ تاثیر کی حامل ہیں ۔ بالخصوص وہ نعت جس کا مطلع ہے : ” آج سِک متراں دی ودھیری اے کیوں دلڑی اداس گھنیری اے ” اور دو مزید نعتیں ” اجے بھی اوہ پیّاں دِسدیاں سانوں ماہی والیاں ٹاہلیاں ” اور ” دل لگڑا بے پرواہاں نال ” اس ملک میں قوالی کی جان سمجھی جاتی ہیں …….۔
حضرت قبلہ عالم قدس سره پنجابی اور فارسی زبان کے ایک نغز گو سخنور تھے ۔ آپ کا کلام جو نعت ، مناجات اور تصوف پر مشتمل ہے ، اپنی سلاست اور انوکھے انداز کی وجہ سے غلبۂ حال کا مرقع معلوم ہوتا ہے ۔ کئی طویل نظمیں فی البدیہہ لکھتے یا لکھوا دیتے تھے ۔ وارداتِ غیبی کی تاثیر سے ایک مرتبہ قافیہ و ردیف سے بے نیاز ہو کر بھی کلام ارشاد فرمایا ہے ۔ چنانچہ اپنے فرزند حضرت قبلہ بابو جی کی طرف ایک مکتوب میں اس قسم کا ایک شعر درج کر کے فرماتے ہیں : لسان الوقت کو قافیہ و ردیف سے غرض نہیں ۔ لہٰذا مجنونانہ مضامین پر عقل کو مواخذہ کا استحقاق نہیں ۔
” الشعراء تلامیذ الرحمٰن ” شاعر کو تلمیذِ رحمٰن کہا گیا ہے ۔ اس جہت سے صوفیائے کرام کو ” لسان الغیب ” سمجھنا چاہیے کہ وہ محرمِ اسرارِ حق ہوا کرتے ہیں اور ان کا کلام غیبی اشارات کا آئینہ ہوا کرتا ہے ۔ خواجہ حافظ شیرازی ( جن کو سرکار سیدنا مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی قدس سرہ صوفیِ کامل اور مجذوب کہا کرتے تھے ) کو اسی معنی کے اعتبار سے ” لسان الغیب ” کہا جاتا ہے ۔ صوفیائے کرام کی شاعری الہامی نوعیت کی ہوا کرتی ہے ۔
وارداتِ قلبی کو وہ بڑے والہانہ انداز میں پیش کرتے ہیں ، جس کی تاثیر سے سعادت مند روحیں بیکل اور مضطرب ہو جاتی ہیں ۔ وہ لسان العصر ہوتے ہیں جو حقائق و معارف کے تابدار موتی رولتے ہیں ، جن کی تہوں تک ظاہر بیں نگاہیں نہیں پہنچ سکتیں ۔ سید پیر مہر علی شاہ گولڑوی اسے نوع کے شاعر تھے ۔ آپ نے مختلف زبانوں میں شاعری کی ہے ۔ آپ کی صوفیانہ شاعری کانوں میں رس گھولتی ہے ۔
آپ نے تصوف کے مضامین ، صوفیانہ خیالات اور عارفانہ افکار و نظریات کی ترجمانی بڑے اچھوتے انداز میں کی ہے ۔ حمد و مناجات ، نعتِ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور بزرگان دین کی شان منقبت کے اشعار والہانہ اسلوب میں نظم کیے ہیں ۔ آپ کی دھنک رنگ شاعری میں ایمان و یقین ، عشق و وارفتگی ، عرفان و آگہی اور روحانیت کے نوع بنوع انداز دیکھنے کو ملتے ہیں ۔ یہ اشعار دیکھیں کہ کس قدر معنیٰ خیز ہیں :
مئے توحید از خم خانۂ غیب
بہ مستانِ الست انعام کردند
چوں غلطیدم ز مستی ہا بہر سو
حریفاں مستی از من وام کردند
ہویدا شد در امکاں صورتِ حق
بہ آں صورت جہاں را رام کردند
بمہرِ آں کہ غیرش نیست موجود
بخود آغاز و ہم انجام کردند
ان اشعار میں صوفیانہ رنگ و آہنگ ، توحید کی سرمستی اور فلسفۂ وحدۃ الوجود کی جو عکاسی کی گئی ہے ، وہ اہلِ نظر سے مخفی نہیں ۔ جذبے کی صداقت ، بیان کی نفاست ، فکر کی طہارت ، زبان کی حلاوت ، قرینۂ اظہار ، جذبِ دروں ، شوقِ فراواں ، سادگی و پرکاری اور سنجیدگی و شیفتگی آپ کے کلام کی نمایاں ترین خصوصیات میں سے ہیں ۔ حسّاس قاری اور درد مند دل رکھنے والا سامع آپ کے عارفانہ کلام سن کر مسحور ہوئے بغیر نہیں رہتا ۔ آپ کی مندرجہ ذیل نعتیہ غزل زبان و بیان کا خوب صورت مرقع ہے ، جس کی سطر سطر سے آپ کی شاعرانہ عظمت مترشح ہوتی ہے اور اس کا تغزلانہ آہنگ قاری کو مسحور کرتا ہے :
دلا کس کی لگن میں پھرتا ہے وحشی تو بن بن میں
پٹن میں منٹگمری میں علی حیدر کے موطن میں
یہاں لا کر کیا قائل فسونِ سحر کا اپنے
کمندِ زلف میں تیرِ مژہ میں چشمِ پُر فن میں
وہاں سوئے پڑھے تھے خوش عدم کی نیند میں بیخود
جگا کر جلوہ دکھلایا ہمیں مظہر دیوانن میں
ارے ساقی ترے ممنون ہیں سب رند و مستانے
پلا دے جام بھر کر جس سے سب غم جائیں آنن میں
نگارِ و الضحیٰ روئے و واللیلِ سجیٰ موئے
ابھی گذرے ہیں اس رہ سے بھری خوشبو مشامن ہیں
یہ کیسا ہے گداز و سوز کیسی ہے یہ بے خوابی
جگر میں آنکھ میں دل میں سراپا جسم میں تن میں
حریفِ ساغر و مئے ہوں غریقِ بحرِ عصیاں ہوں
سہارا ہے فترضیٰ کا مجھے محشر مکان میں
مجھے کیا غم ہے محشر کا مرا حامی ہے جب وہ شاہ
کہا لولاک وَ طٰہٰ و مُزَمّل جس کی شانن میں
دلا مت رو غلام ہو کر تو محی الدین جیلی کا
مُریدی لا تخف بس ہے سہارا ہر دو کونن میں
آپ کی بلند پایہ شاعری واقعی دھنک رنگ شاعری ہے اور بالخصوص آپ کی فارسی شاعری میں بڑی جاذبیت و معنویت پائی جاتی ہے ۔ راقم الحروف سب سے زیادہ آپ کے فارسی کلام سے محظوظ ہوا ، جس میں فکر و فن کی دل آویزی ، جمالیاتی رنگ و آہنگ ، خیال کی پاکیزگی ، رفعتِ تخیل ، زبان کی سادگی اور بیان کی ساحری ذہن و فکر کو اپیل کرتی ہے ۔ آپ کی شاعری اس قدر موضوعاتی تنوع کی حامل ہے کہ میرے لیے یہ فیصلہ کرنا دشوار ہے کہ آپ کی شاعری کی کن جہات کو نمایاں کروں اور کن گوشوں کو ترک کروں ۔ یہاں حال اس شعر کے مصداق ہے :
شکارِ ماہ کہ تسخیرِ آفتاب کروں
کسے میں ترک کروں کس کا انتخاب کروں
سید پیر مہر علی شاہ ایک قادر الکلام شاعر تھے ۔ بیک وقت چار زبانوں میں شاعری آپ کی قادر الکلامی اور شعری بو قلمونی کو واضح کرتی ہے ۔ آپ کے فتراکِ سخن میں ہر قسم کے عطر بیز شعری نمونے موجود ہیں ۔ حمد ، مناجات ، نعت ، منقبت ، صوفیانہ افکار و نظریات اور پاکیزہ تعلیمات سے آپ نے اپنے خیایانِ فکر و سخن کو آراستہ کیا ہے ۔ اوپر آپ کے حمدیہ و نعتیہ اور مثنوی کے ضمن میں آپ کی منقبتی نمونے پیش کیے جا چکے ہیں ۔ فارسی مناجات و نعت کے یہ فکر انگیز نمونے بھی ملاحظہ کریں ۔ فکر کی بلند ، خیال کی پاکیزگی اور اسلوب کی رعنائی و دلکشی ہر شعر سے ظاہر ہے :
گرچہ غرقِ بحر عصیانیم ما
آیتِ ” کا تقنطوا ” خوانیم ما
کن بشایان درت ما را قبول
حضرتت را گر نشایانیم ما
بر زمینِ عجز بہر وصلتت
عمرہا شد جبہہ سایانیم ما
گر نہ باشد لامِ لطفت دستگیر
در خجالت تا ابد مانیم ما
عقلِ کل عاجز بمانده در صفات
کنہِ ذاتت را کجا دانیم ما
مورِ لنگیم و ضعیف و مضطرب
چوں نظر افتد سلیمانیم ما
گر نباشی رہنما در وصل خویش
ہمچناں اعمیٰ و کورانیم ما
می کنم دریوزهٔ وصلِ ترا
شیئا للہ از گدایانیم ما
می کند مہرِ علی از سوزِ دل
نالہ ہا کہ وصل جویانیم ما
مندرجہ ذیل فارسی نعت ، غزلیہ آہنگ میں ہے ، یہی وجہ ہے کہ اس میں تغزل کی چاشنی بھی دیکھنے کو ملتی ہے ۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے رخِ اقدس کو مصحف قرار دیتے ہوئے اس پر آیاتِ الہٰی کا مشاہدہ کرنا ، تعبیر کی عمدگی کی بڑی اچھوتی مثال ہے ، پیر مہر علی شاہ جیسے قادر الکلام شاعر ہی ایسی ہنر مندی دکھا سکتے ہیں ۔ ہر شعر بلکہ ہر مصرع عشق و وارفتگی اور اضطراب و التہاب میں ڈوبا ہوا ہے :
آشفتۂ مہروئے پُر ناز و ستم گارم
من کُشتۂ ابروئے آں دلبرِ عیارم
بر یادِ سیہ چشمے ہمہ روز سیاہم شد
و ز ناوک مژگانش صد خار بہ دل دارم
از زلفِ پریشانش شد خانہ بدوشِ من
در مصحفِ روئے او آیاتِ خدا دارم
عشق آمد و شد ساری چوں بو بگلاب اندر
او در من و من در وے سرّیست از اسرارم
بیروں نہ زدم قدمے و ایں طرفہ تماشا بیں
پر آبلہ شد پایم عمریست کہ سیارم
تا یافتہ ام خبرے از بابِ علومِ دل
دلدادہ بمہرِ آں شہ حیدرِ کرّارم
حضرت مولیٰ علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی شان میں منقبت کا یہ انداز دیکھیں اور آیت کریمہ : النبی اولیٰ بالمومنین من انفسھم ….. کی ترجمانی ملاحظہ کریں :
کیست مولائے علی مولائے کل
ھٰکذا قد قالہ خیر الرسل
از نفوسِ ما است اولیٰ تر نبی
پس علی را ایں چناں داں یا اخی
گشت اول از ہمہ نورِ نبی
بود اقرب تر بہ او نورِ علی
مثنوی نگاری :
مثنوی بیانیہ شاعری کی ایک مقبول اور ہر دل عزیز صنف ہے ۔ اس میں کوئی واقعہ یا قصہ تسلسل کے ساتھ بیان کیا جاتا ہے ۔مثنوی مسلسل اشعار کے اس مجموعے کو کہتے ہیں جس میں ہر شعر کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوتے ہیں ۔ مثنوی میں ردیف کا استعمال نسبتاً کم ہوتا ہے ۔ یہ عام طور پر چھوٹی بحر میں لکھی جاتی ہے ۔ مثنوی میں اشعار کی تعداد بھی مقرر نہیں ۔ اردو میں طویل اور مختصر دونوں طرح کی مثنویاں لکھی گئی ہیں ۔ موضوعات کے اعتبار سے مثنوی کا دامن بہت وسیع ہے ۔ اس میں داستان کی طرح مافوق الفطرت قصے ٬ عشق و محبت کی کہانیاں ، اخلاق و تصوف کی باتیں ٬ عظیم ہستیوں کی تعریف و توصیف ٬ جنگ اور مہم جوئی کے واقعات ٬ ملک ٬ معاشرہ اور قوموں کے حالات اور نصیحت کے مضامین بھی بیان ہوتے ہیں ۔ مثنوی کے اجزائے ترکیبی مقرر نہیں ہیں ۔ طویل اور عموماً قدیم مثنویوں میں عام طور پر آٹھ اجزا پائے جاتے ہیں اور بالعموم یہی مثنوی کے اجزائے ترکیبی ہیں : ( ۱ ) حمد و مناجات ( ۲ ) نعت ( ۳ ) منقبت ( ۴ ) حاکمِ وقت کی مدح ( ۵ ) اپنی شاعری کی تعریف یا شاعرانہ تعلی ( ۶ ) مثنوی لکھنے کا سبق ( ۷ ) اصل واقعہ یا قصہ / داستان ( ۸ ) خاتمہ ۔ لیکن ضروری نہیں کہ مثنوی میں بیک وقت یہ سارے اجزا موجود ہوں اور اسی ترتیب سے ہوں ۔ انیسویں صدی کے اواخر میں جو مثنویاں لکھی گئی ہیں ٬ ان اجزا کی پابندی نہیں کی گئی ہے ۔ اردو کی قدیم مثنویوں میں زیادہ تر عشقیہ قصے اور مذہبی و اخلاقی مضامین نظم کیے گئے ہیں ۔ صوفیائے کرام کی مثنویاں بالعموم اخلاق و تصوف کے مضامین پر مشتمل ہیں ۔ اردو شاعری میں مندرجہ ذیل اوزان و بحور میں مثنویاں لکھی گئی ہیں :
( ۱ ) مفتعلن مفتعلن فاعلات یا فاعلن
( ۲ ) مفاعلن مفاعیلن مفاعیل یا فعولن
( ۳ ) مفعول مفاعلن فعولن یا مفاعيل
( ۴ ) فاعلاتن مفاعلن فعلن
( ۵ ) فعولن فعولن فعولن فعل یا فعول
( ۶ ) فاعلاتن فاعلاتن فاعلات یا فاعلن
( ۷ ) فاعلاتن فعلاتن فعلن یا فعلات
ان اوزان و بحور کی مقبولیت کے اسباب پر روشنی ڈالتے ہوئے جلال الدین احمد جعفری لکھتے ہیں : یہ کوئی ضروری اور لازمی امر نہیں ہے کہ ان مستعملہ و مروجہ سات اوزان کے علاوہ کسی دوسرے وزن میں مثنوی لکھنا نا جائز سمجھا جائے ۔ البتہ مثنوی نگاری کے لیے جن وزنوں کو مخصوص کیا گیا ہے ٬ ان میں بہ نسبت دوسرے اوزان کے دل کشی ٬ ترنم اور موزونیت زیادہ پائی جاتی ہے ۔ حضرت پیر مہر علی شاہ کو دیگر اصناف کی طرح مثنوی نگاری میں بھی کمال حاصل تھا اور یہ بات بلا مبالغہ کہی جا سکتی ہے کہ آپ کی مثنوی ” مثنوی مولانا روم ” کا نظارہ پیش کرتی ہے ۔ فصاحتِ زبان ، بلاغتِ بیان ، سلاست و نفاست ، سادگی و روانی ، عمدگی و برجستگی اور صنعتِ اقتباس کے معاملے میں آپ کی مثنوی ، مثنویِ مولانا کا عکس معلوم ہوتی ہے ۔ ” مثنوی گومگو ” کے یہ اشعار دیکھیں اور راقم کے دعویٰ کی صداقت ملاحظہ کریں :
مرحبا اے بلبلِ بستانِ چشت
باز گو از گومگو آں سرنوشت
ہر دم از اسلام و اہلش ایں صدا ست
ایں بیانِ نیک چشتی را سزا ست
فیضیاب از بارگاهِ احمدی
جرعۂ بر دہریہ و فلسفی
کے مقابل با تو تاند ہمسری
مستمد از شیخ عبد القادری
نورِ چشم مصطفیٰ و مرتضیٰ
سیدِ حسنی حسینی مہ لقا
نورِ دیده تاج دارِ انّما
مژدۂ از لا تخف دادہ بما
آں سگے کو شد مقیمِ کوئے اُو
شیر نارد تابِ دیدن سوئے او
حبِّ دل داری بخواجۂ خواجگاں
مات فی حب الالہٰ او راست شاں
قُلْ لَهُمْ قَوْلًا بَلِيغََا لَيّنََا
و لھم بیّن بیاناً ھیّناً
خیال گوئی :
ہندی گیتوں کی مروّجہ اقسام میں ایک ” خیالؔ ” بھی ہے جو بیحد مقبول اور عام پسند ہے ۔ ہندوستان کے بڑے بڑے گویّے خیالؔ گانا اور اس میں فنی کمال دکھانا فخر سمجھتے ہیں ۔ خیالؔ میں دو حصے ہوتے ہیں ۔ پہلا حصہ آستائؔی اور دوسرا حصہ انترہؔ کہلاتا ہے ۔ خیالؔ میں پیش کیے جانے والے مضامین عام طور پر عاشقانہ ہوتے ہیں ۔ چوں کہ خیال کی ایجاد ایسے زمانے میں ہوئی جب اردو کا نام و نشان نہ تھا یا پھر اردو برائے نام مروج تھی ۔ اس لیے خیال کی زبان زیادہ تر فارسی ٬ اودھی اور پوربی ہوتی ہے ۔ خیال کی تخلیق میں عشق کا جذبہ عورتوں کی طرف سے پیدا کیا جاتا ہے ٬ جیسا کہ ہندی شاعری کا رواج ہے ۔ خیال وہ صنفِ سخن ہے جس میں پورے مضمون کا تعلق محض تصورات پر ہوتا ہے جو محبوب کی جدائی اور اس سے ملنے کی تمنا پر مبنی ہوتا ہے ۔ دُھرپدؔ اور خیالؔ کے مفہوم اور حقیقت پر روشنی ڈالتے ہوئے ” ادبی اصناف ” کے مصنف لکھتے ہیں : دھرپدؔ ٬ یہ خیالؔ گائکی سے پہلے کا قدیم انداز ہے ۔ اس میں سُر ٬ لَے ، تال اور بول سب ہوتے ہیں ٬ لیکن سُر پر زیادہ زور ہوتا ہے اور تان ممنوع ہوتی ہے ۔ دُھرپدؔ میں چار چرن ، فقرے یا تُک ہوتے ہیں ۔ جو نظمیں تحریر میں گانے کے لیے لکھی جائیں ٬ انھیں دُھرپد کہہ دیا جاتا ہے ۔ اردو میں بہاء الدین برناوی ، شاہ برکت اللہ پیمی مارہروی اور واجد علی شاہ کے یہاں دُھرپد ملتے ہیں ۔ واجد علی شاہ کے دُھرپد ناجو اور دلہن میں ہیں ۔ ان کے دو نمونے ڈاکٹر پر کاش مونس نے دیے ہیں ۔ دُھرپدؔ سے اگلی گائکی خیالؔ ہے ۔ اس کی ایجاد امیر خسرو ، سلطان حسین شرقی اور محمد شاہ رنگیلے کے درباری گویّوں سدا رنگ اور ادا رنگ سے منسوب کی جاتی ہے ۔ خسرو شناسی میں عظمت حسین خان میکش نے امیر خسروؔ کا ایک خیالؔ لکھا ہے ٬ لیکن اس کی زبان اتنی صاف اور متروکات سے پاک ہے کہ وہ خسروؔ کا نہیں ہو سکتا ۔ ڈاکٹر نذیر احمد نے ” علی گڑھ تاریخِ ادب اردو ” میں شاہ برہان الدین جانم کے چند خیالؔ دیے ہیں ٬ لیکن خیال کے بہترین نمونے شیخ بہاء الدین برناوی کے یہاں ملتے ہیں جو بہت بڑے موسیقار تھے ۔ چوں کہ خیالؔ میں بول بہت مختصر ہوتا ہے ٬ اس لیے خیال کے گیت دو تین سطروں سے زیادہ کے نہیں ہوتے ۔
( ادبی اصناف ٬ ص : ۹۴ ٬ ۹۵ ٬ ناشر : گجرات اردو اکیڈمی ٬ گاندگی نگر )
سید پیر مہر علی شاہ کی شاعرانہ عظمت مسلّم ہے ۔ آپ بیک وقت چار زبانوں ( فارسی ٬ اردو ، پنجابی ، ہندی ) میں شاعری کیا کرتے تھے ٬ جو آپ کے ماہرِ ادبیات اور شاعرِ باکمال ہونے کی دلیل ہے ۔ آپ کی فارسی شاعری مولانا روم کی یاد دلاتی ہے ۔ آپ کے خیابانِ سخن میں ” خیالؔ گوئی ” بھی شامل ہے ۔ خیالؔ کے مروجہ اسلوب و منہج کو ملحوظ رکھتے ہوئے آپ نے ” خیال گوئی ” کے پاکیزہ نمونے پیش کیے ہیں ۔ آپ کے ہندی خیال کا ایک نمونہ پیش کیا جاتا ہے جو اکثر قوال بطرزِ بھوپالی گاتے ہیں :
جب سے لاگے تورے سنگ نَین پیا
نیند گئی آرام نہیں ساری ساری رَین پیا
دکھ آئے سکھ بھاگ گئے
سب عیش مٹا سارا چین پیا
تن من دھن سب تجھ پر واروں
وار دیوں کو نین پیا
جیا تڑپت ہے درشن دیجو
صدت حسن حسین پیا
وَصَلِّ عَلی کیا شان ہے
لَا مِثْلَكَ فِي الدارين پيا
مہر علی ہے حب نبی اور حب نبی ہے مہر علی
محمد بھی جسمان مسی فرق نہیں مابین پیا
جب سے لاگے تو اسے سنگ تین پیا
نین گتی آرام نہیں ساری ساری بین پیا
حضرت پیر مہر علی شاہ کی شاعری ایک بڑی خوبی یہ بھی ہے کہ آپ کے کلامِ بلاغت نظام میں ” صنعتِ اقتباس ” کا کثرت سے استعمال ہوا ہے اور یہ چیز آپ کے فکری وفور اور علمی تبحر پر دال ہے ۔ مولانا روم کی مثنویوں میں یہ صنعث کثرت سے نظر آتی ہے ۔ یقیناً آپ رومیِ عصر تھے ۔ آپ نے قرآنی آیت ، حدیث کے فقرے اور عربی عبارات کو نگینے کی طرح اشعار میں اس طرح جڑا ہے کہ ان کا حسن و جمال دو آتشہ ہو گیا ہے ۔ اس نوعیت کے چند اشعار ملاحظہ فرمائیں :
گرچہ غرق بحر عصیانیم ما
آیتِ ” لا تقنطوا ” خوانیم ما
شب و روز و روز از شب شد عیاں
” فَمحونا آیت اللیلِ ” بیاں
” یعطیک ربک ” داس تساں
” فترضیٰ ” تھیں پوری آسا اساں
صَانَہ الرَّحْمٰنُ مِنْ نَّارِ السَّقر
وقتِ ما خوش کرد اندر ایں سفر
جذبۂ عشقت ساری در جہاں
اصلِ کل جذبات ” فاحببت ” بداں
ہست بے صورت جنابِ قدسِ حب
” قد تجلیٰ فی غیاباتِ الجُبّ “
مذکورہ بالا کلام و اشعار اور مختلف زبانوں میں آپ کی نوع بنوع شعری نگارشات کے مطالعے سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ آپ اپنے وقت کے ایک منجھے ہوئے قادر الکلام شاعر اور بلند پایہ سخنور تھے ۔ آپ کی فارسی شاعری کو دیکھ کر اہلِ زبان کی شاعری کا اندازہ ہوتا ہے ۔ مثنوی نگاری میں بڑی مہارت حاصل تھی اور حمد و نعت منقبت بھی خوب کہی ہے ۔ غرض کہ جس طرف بھی آپ نے اپنی عنانِ فکر و قلم کو موڑا ہے ، شہکار نمونے لے کر آئے ہیں ۔ بیسویں صدی عیسویں کے صوفی شعرا میں ایک منفرد شاعر کی حیثیت سے آپ کے نام اور ادبی کارناموں کو فراموش نہیں کیا جا سکتا ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ آپ کی شاعری کے مخفی گوشوں کو زیادہ سے زیادہ عام کیا جائے اور آپ کے فکر و فن کو تحقیق کا موضوع بنایا جائے