وصایائے مصطفی ﷺ انسانی زندگی کا آفاقی دستور و دائمی منشور
وصایائے مصطفی ﷺ انسانی زندگی کا آفاقی دستور و دائمی منشور
از: محمد شمیم احمد نوری مصباحی
خادم:دارالعلوم انوارِ مصطفیٰ سہلاؤ شریف،باڑمیر(راجستھان)
رحمتِ مجسم، نبیِ مکرم ﷺ کی زبانِ اقدس سے نکلے ہوئے الفاظ نہ صرف ایمان کو تازگی عطا کرتے ہیں، بلکہ زندگی کے ہر شعبے کو نورِ ہدایت سے منور کر دیتے ہیں۔
قرآنِ حکیم نے ہمیں بارہا یہ سبق دیا کہ رسول اللہ ﷺ کی ذات ہمارے لیے کامل نمونہ ہے، جیسا کہ ارشاد ربانی ہے:”لَّقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ ٱللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ”یعنی: تمہارے لیے رسولِ خدا کی زندگی بہترین نمونہ ہے۔
اسی سیرتِ طیبہ کی روشنی میں وہ سات سنہری وصیتیں، جو تاجدارِ مدینہ ﷺ نے حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کو عطا فرمائیں، درحقیقت ہر انسان کے لیے ایک ہمہ گیر منشور، ایک اصلاحی آئینہ، اور ایک روحانی رہنما ہیں۔
ان میں فرد کی تعمیر، معاشرت کی تطہیر، اور انسانیت کی تعبیر پوشیدہ ہے۔آئیے! سب سے پہلے ان سات وصیتوں کو رسول اللہ ﷺ کے مبارک الفاظ میں پڑھیں
حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، فرمایا رسول اللہ ﷺ نے:”أوصاني بحبِّ المساكينِ والدُّنوِّ منهم، وأن أنظرَ إلى من هو دوني ولا أنظرَ إلى من هو فوقي، وأن أصلَ الرحمَ وإن أدبرتْ، وأن أقولَ الحقَّ وإن كان مرًّا، وأن لا أخافَ في اللهِ لومةَ لائمٍ، وأوصاني أن أُكثِرَ من قولِ: لا حولَ ولا قوةَ إلا باللهِ، وأوصاني أن لا أسألَ أحدًا شيئًا”(سنن ابن ماجہ، کتاب الزہد، باب الورع والتقوی، حدیث: 4102)
ترجمہ: مجھے وصیت کی گئی:(1) مساکین سے محبت کرنے اور ان کے قریب رہنے کی
۔(2) جو مجھ سے کم تر ہیں ان کی طرف دیکھنے، اور جو بلند ہیں ان کی طرف نہ دیکھنے کی
۔(3) رشتہ داروں سے صلہ رحمی کرنے کی، چاہے وہ منھ موڑیں
۔(4) سچ بولنے کی، چاہے وہ کڑوا ہو
۔(5) اللہ تعالیٰ کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی پرواہ نہ کرنے کی
۔(6) کثرت سے “لا حول ولا قوۃ الا باللہ” کہنے کی
۔(7) اور کسی سے کچھ نہ مانگنے کی
۔1. فقراء سے محبت، دل کی تطہیر اور روحانی بلندی کا زینہ:یہ تعلیم ایک ایسا اخلاقی و روحانی انقلاب ہے، جو سماجی تفاخر، معاشی غرور اور طبقاتی تقسیم کو توڑ کر دلوں میں اخوت، ہمدردی اور محبت کے چراغ روشن کرتی ہے۔ فقراء کو بوجھ نہیں بلکہ برکت سمجھنا چاہیے۔ ان کے ساتھ بیٹھنا دل کو نرم کرتا ہے، قلب کو منور کرتا ہے، اور ان کی دعائیں زندگی کی سب سے قیمتی متاع بن جاتی ہیں
۔2. قناعت باطنی آزادی اور شکرگزاری کا راز:قناعت وہ دولت ہے جو انسان کو بے نیازی عطا کرتی ہے، حسد و حرص سے محفوظ رکھتی ہے، اور ہر حال میں شکر کی لذت عطا کرتی ہے۔ دنیاوی دوڑ میں نیچے دیکھنے والا ہمیشہ مطمئن رہتا ہے۔ قناعت صرف دولت نہیں بلکہ دل کا سکون ہے، اور حرص و حسد روحانی زہر ہیں جن سے بچنا نجات کی کنجی ہے
۔3. صلہ رحمی، ٹوٹتے رشتوں کا مرہم اور معاشرتی انسجام کا راز:یہ وصیت معاشرت کو ٹوٹنے سے بچاتی ہے، رنجشوں کی جگہ محبت کو بٹھاتی ہے، اور خاندان کو اخوت کا گہوارہ بناتی ہے۔ رشتے نبھانا عبادت ہے، خواہ دوسرے کا رویہ منفی ہو۔ درگزر محبت کی کنجی ہے۔ صلہ رحمی سے عمر دراز ہوتی ہے اور رزق میں وسعت عطا ہوتی ہے
۔4. حق گوئی، ایمان کی روح اور کردار کا جوہر:سچ بولنا وقتی نقصان کا باعث بن سکتا ہے، مگر یہ دائمی نفع، عزت، وقار اور اعتماد کا سرچشمہ ہے۔ حق گو انسان اللہ تعالیٰ کے قریب ہوتا ہے۔ سچائی معاشرتی ستون اور کردار کی معراج ہے
۔5. دین کے لیے جراءت، اللہ کی رضا کو مقدم رکھنا:یہ تعلیم ایک سچے مومن کو مردِ مجاہد بناتی ہے جو حق پر ڈٹا رہتا ہے اور دین کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار رہتا ہے۔ صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کو پیشِ نظر رکھنا اور ملامت کرنے والوں کی پرواہ نہ کرنا اہلِ عزیمت کی پہچان ہے
۔6. ذکرِ الٰہی، دلوں کی زندگی اور روح کا غذاء:ذکر انسان کو عاجزی، توکل، رضا اور تسلیم کا پیکر بناتا ہے، اور ہر مصیبت میں ڈھارس دیتا ہے۔ “لا حول ولا قوۃ الا باللہ” دل کی تقویت، رب کی نصرت کا ذریعہ، اور روحانی زندگی کا پہلا زینہ ہے
۔7. خودداری و توکل، عزتِ نفس کا تاج:یہ وصیت انسان کو مخلوق کے سامنے دستِ سوال دراز کرنے سے بچاتی ہے، اور اسے خالص توکل، خودداری، اور اللہ وحدہ لاشریک پر کامل بھروسا کا سلیقہ عطا کرتی ہے۔ غیروں کی محتاجی سے نکل کر صرف اللہ رب العزت پر بھروسا کر لینا، عزتِ نفس کی بلند ترین منزل ہے، اور توکل ہی دنیا کے خوف سے آزادی اور نجات کا راستہ ہے۔
حاصلِ کلام یہ ہے کہ یہ ساتوں وصیتیں محض اخلاقی نصائح نہیں، بلکہ ایک آفاقی منشور، ایک انقلابی ضابطۂ حیات، اور ایک جامع اسلامی نظامِ زندگی ہیں۔
آج کی دنیا، جو روحانی پیاس، اخلاقی زوال، رشتوں کی شکستگی اور بےسکونی کا شکار ہے، ان وصایا کو اپنائے تو یہی تعلیمات اس کے لیے روشنی کا مینار بن سکتی ہیں۔
آئیے! ہم ان سنہری اصولوں کو اپنا شعار بنا لیں تاکہ ہمارا حال بھی نکھرے، اور ہمارا کل بھی سنور جائے۔
اے اللہ! ہمیں اپنے محبوب ﷺ کی ان نورانی وصیتوں کو دل کی گہرائی سے قبول کرنے، عمل میں لانے اور اپنی زندگی کا جزوِ لازم بنانے کی توفیق عطا فرما۔
اے پروردگار! ہمارے دلوں کو فقراء کی محبت سے معمور فرما، قناعت کی دولت عطا فرما، رشتوں کو جوڑنے والا بنا، حق گوئی کی ہمت عطا فرما، دین کے لیے جراءت و استقامت نصیب فرما، اپنے ذکر کی مٹھاس ہمارے دلوں میں بسا دے، اور ہمیں مخلوق کی محتاجی سے بچا کر خالص اپنے در کا محتاج بنا دے۔
یا رب العالمین! ہمیں اس منشورِ مصطفی ﷺ پر چلنے کی توفیق دے، ہمارے ظاہر و باطن کو نورِ نبوت سے روشن فرما، اور ہماری زندگی کو حضور ﷺ کی سیرت کا پرتو بنا دے۔
آمین یا رب العالمین، بجاہ سید المرسلین ﷺ۔