از: محمد ایوب مصباحی : پردے کی شرعی حیثیت اور کرناٹک حجاب معاملہ
ادا آئی، جفا آئی، غرور آیا، حجاب آیا
ہزاروں آفتیں لےکر حسینوں پرشباب آیا
اللہ تعالی نے اٹھارہ ہزار عالم میں انسان کو اشرف و اکرم کیا، اس کے سر پر “ولقد کرمنا بنی آدم” کا تاج کرامت و شرافت سجایا، پھر نسل انسانی کے فروغ وزیادت کے لیے صنف نازک عورت کو اس کی زندگی کا ہمسفر کیا
لیکن فصل جانبین و زوجین اور طرۂ امتیاز کے تقاضوں کے مد نظر مرد کو سرپرست، ذمہ دار اور حاکم ٹھہرایا جب کہ مرد کے لیے امور خانہ داری کے انتظام و اہتمام و انصرام کے فراق و سعی میں درپیش مسائل اور ذہنی توازن کے متزلزل ومکدر ہونے پر عورت کو اس کے دل کا سکون واطمنان کا باعث اور اس کی ذہنی الجھن کے رفع ودفع کا سامان کیا
حتی کہ اس کے لیےمرد کی محبت میں زندگی کے سفر کو طے کرنا نہایت آسان کردیا؛ اور یہ اظہر من الشمس ہے کہ محبوب کا ہر قسم کی شکستگی اور شگاف سے مبرا ومنزہ ہونا محبت کے شرائط میں سے ہے۔
لہذا اس کی رعایت کرتے ہوئے عورت کو پردے میں رہنے کا حکم دیا گیا اور اس کے لیے پردہ لازم و ضروری قرار دیا۔ تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے : کہ حالیہ دنوں ریاست کرناٹک کے شہر اڈوپی میں حجاب کا مسئلہ کالجوں سے اٹھ کر سرکاری اداروں ، نیوز چینلوں، اخباروں، اور سوشل میڈیا کی زینت بن گیا۔
اس پورے واقعہ میں کئی چیزیں قابل غور ہیں :پہلی یہ کہ اسلامی مسائل کو اکثر اس وقت اٹھایا جاتاہے جب انتخابات قریب ہوتے ہیں تاکہ اس سے الیکشن میں استفادہ ہو، دوسری یہ کہ اسلام مخالف طاقتیں یہ معلوم کرنا چاہتی ہیں: ابھی مسلمانوں میں غیرت ایمانی کس درجہ باقی ہے؟یعنی اسلامیات پر پابندی عائد کرنے کے نتیجے میں اگر صداے بازگشت بلند ہو تو مسئلے سے زیادہ تعرض نہ کرتے ہوئے ملتوی کردیا جاۓ جیسا کہ این آرسی میں ہوا
اور اگر آٹے میں نمک کے برابر احتجاج ہو تو اسلام و مسلمان پر شب خون مارا جاۓ ، اسے حتی الامکان انحطاط پزیر کیا جاۓ، اس کی بیخ کنی کی جاۓ جیسا کہ طلاق ثلاثہ میں کیا گیا۔ تیسری یہ کہ ہمارے بعض نام نہاد مسلم بھی اسلام سے متنفر اور بدظن ہیں جس کی وجہ یہ ہے کہ انھیں صحیح طور پر اسلام کا مطالعہ نہیں ہے۔ یا کسی نے اسلام کے خلاف ان کے ذہنوں میں زہر بھردیا ہے یا پھر مغربی تہذیب و کلچر کا ان پر اس درجہ غلبہ ہے کہ وہ اسلام کو قید وبند اور دیگر مذاہب باطلہ و فاضحہ کو اچھا یا اس میں اپنی فلاح ونجات تصور کررہے ہیں جو کہ زعم باطل اور گمان فاسد ہے۔ تبھی شاعر مشرق علامہ اقبال نے کہا تھا :ع بد عمل تھے ہی جواں دین سے بدظن بھی ہوۓ آئیے! پردہ کیا ہے؟
یہ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں، پردہ دو طرح کا ہے۔ ایک شرم و حیا کا ، دوسرا لباس کا۔ اسلام نے عورت کے لیے ان دونوں نوع کے پردے کو لازم و ضروری قرار دیاجب کہ مرد کو صرف قسم اول یعنی شرم و حیا کے پردے کا حکم دیا۔ ارشاد فرمایا: (سورہ :نور، آیت :٣٠)
ترجمہ:مسلمان مردوں کو حکم دو اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں اور یہ ان کے لیے بہت ستھرا ہے بے شک اللہ کو ان کے کاموں کی خبر ہے۔
(کنز الایمان) اس کے تحت تفسیر “خزائن العرفان ” میں ہے: “اور جس کا دیکھنا جائز نہیں اس پر نظر نہ ڈالیں۔” مرد کو کب اور کتنا ستر چھپانا ضروری ہے؟
“بہار شریعت” میں ہے:ستر عورت ہر حال میں واجب ہے خواہ نماز میں ہو یا نہیں، تنہا ہو یا کسی کے سامنے ، بلا کسی غرض صحیح کے تنہائی میں بھی کھولنا جائز نہیں اور لوگوں کے سامنے یا نماز میں تو ستر بالاجماع، یہاں تک کہ اگر اندھیرے مکان میں نماز پڑھی اگرچہ وہاں کوئی نہ ہو اور اس کے پاس اتنا کپڑا موجود ہے کہ ستر کا کام دے اور ننگے پڑھی تو بالاجماع نہ ہوگی۔”(بہار شریعت، حصۂ سوئم، ص: ٣٥/فاروقیہ بک ڈپو)
“بہار شریعت” میں ہے : ” مرد میں اعضاے عورت نو ہیں۔ جن میں آٹھ علامہ ابراہیم حلبی، علامہ شامی، علامہ طحطاوی وغیرھم نے شمار کراۓ۔ اور ایک اعلی حضرت علیہ الرحمہ نے۔
اول ذَکر مع اپنے سب اجزا: حشفہ، قصبہ، قلفہ؛ اور اثنیین کے۔ دوم دبر یعنی پاخانہ کا مقام۔ سوم اور چہارم دونوں ران مع گھٹنہ کے۔ پنجم ناف کے نیچے سے لے کر عضو تناسل کی جڑ تک۔ ششم وہفتم دونوں سرین ۔
ہشتم ناف کے نیچے سے لے کر عضو تناسل کی جڑ تک کے برابر حصہ اس کی سیدھ میں پشت اور دونوں کروٹوں کی جانب۔
نہم جس کی تحقیق مجدد دین و ملت اعلی حضرت علیہ الرحمہ نے فرمائی کہ دبر واثنیین کے درمیان کی جگہ مستقل ایک عورت ہے۔ اور ان اعضا کا شمار اور ان کے تمام احکام کو ایک شعر میں جمع فرمایا۔
سترعورت بمرد نہ است از تہ ناف تا تہ زانو ہرچہ ربعش بقدر کن کشور باکشودی وے نماز مجو ذکر و اثنیین و حلقہ پس دوسرین ہر فخذ بہ زانوے او ذکر و اثنیین ودبر باقی زیر ناف از ہر سو(بہار شریعت، حصہ سوئم، ص:٣٨ /فاروقیہ بک ڈپو) یاد رکھنے کو اتنا بس ہے کہ مرد کا اپنے جسم کو ناف کے نیچے سے لے کر گھٹنے تک چھپانا ضروری ہے۔
جیسا کہ “ہدایہ” میں ہے:”وعورۃ الرجل ماتحت السرۃ الی الرکبۃ۔ “یعنی مرد کی عورت کہ جس جگہ کا چھپانا ضروری ہے، ناف کے نیچےسے لے کر گھٹنے تک ہے۔ (ہدایہ اولین، کتاب الصلوۃ، باب شروط الصلوۃ التی تتقدمھا، ص:٧٦/مجلس برکات)
مرد حضرات اپنا محاسبہ کریں ، کتنے دین کے قریب ہیں!!
عوام الناس میں بعضے قصداً اور بعضے جہلاً چھوٹے خواہ بڑے بوڑھے بالخصوص نوجوان جو اس معاشرے کی تشکیل نو کا ایک اٹوٹ حصہ اور جزو لاینفک ہیں، معاشرے میں سواے فساد مچانے کے کچھ نہیں کررہے۔
جب کہ ان کا کردار ایسا ہونا چاہیے تھا کہ لوگ مثالیں پیش کرتے، لیکن ان پر صیہونی طاقتوں، مغربی تہذیب وکلچر کا ایسا خمار چڑھا کہ اتباع ہوی ونفس و تقلید اہل کتاب وہنود میں گھروں میں یوں ہی انڈر ویئر پہنے گردش کرتے رہتے ہیں جو اس قدر ضیق وتنگ ہوتاہے کہ نہ ناف سے شروع نہ پورا گھٹنے تک، اور اس کا طول وعرض وعمق بھی ایسا کہ اعضاے عورت اور شرم کی چیزیں بلکل نمایاں ہوتی ہیں۔
گھر میں آباد دیگر محارم مثلاً ماں، بہن وغیرہ کی قطعاً شرم و لحاظ نہیں بلکہ حمیت وغیرت ایمانی گویا اس نے گروی رکھ دی، سرعام گھروں کے نلوں پر اس تنگ وننگ لباس میں غسل کرنا، جس کے نتیجے میں نابالغوں کو ان امور کی خبر ہوجاتی ہے جو نہیں ہونا چاہیے تھی نوجوانوں کا عام شیوہ بن گیاہے۔ مردوں کو چاہیے کہ اپنے لباس کا جائزہ لیں
انڈر ویئر کے بجاے تہبند استعمال کریں، غسل کامل ستر پوشی کے ساتھ اور بندش کی جگہ کریں۔ شادیوں میں اوباشوں کا دوشیزاؤں کے گرد چکر کاٹنا اور تکنا انتہائی شرمناک!! شادیوں میں شوق پورے کرنے کے پس پردہ کیا کیا ناجائز کام نہیں ہورہے؟
اللہ کی پناہ! شریف الطبع انسان شادی میں جانے سےقبل دس بار سوچتا ہے۔ شادیوں میں نوجوانوں کا لڑکیوں کے گرد گھومنا انھیں تکنا، گھور گھور کر دیکھنا بھی تشویس کا باعث ہے۔ خدا خیر کرے ! انسان کو عفت و پارسائی کا خوگر اور شرم و حیا کا پیکر ہونا چاہیے، اور غیر محرموں کو دیکھنے سے پہلے یہ بھی تصور کرلینا چاہیے کہ اس کی اپنی بہن بیٹیاں بھی ہیں۔
ایسا سب کچھ کرکے وہ گناہ بے لذت و بے لوث کے مہلک مرض میں قرض ہوجاتے ہیں۔ حالاں کہ امام شافعی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:” زنا ایک قرض ہے جو تمھارے گھر سے ہی ادا ہوگا۔ “( دیوان شافعی، ص:٨٤/مطبوعہ: مؤسس علاء الدین) پھر غیر محرم کی طرف بار بار قصدا دیکھنا گناہ ہے، ہاں فجأۃ اضطراری نظر اول معاف ہے۔
حدیث شریف میں ہے:” وعن بریدۃ، قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لعلی: یا علی! لاتتبع النظرۃ النظرۃ فان لک للاول ولیست لک الاخری۔ ” (مشکاۃ :٢٦٩)
عورتوں کو دونوں نوع کے پردے: لباس شرم و حیا اور لباس حجاب کا حکم دیا گیا، یعنی عورتیں اپنی پاکدامنی کا بھی خاص خیال رکھیں اور ستر پوشی کا بھی۔ عفت و پارسائی عورت کا بیش قیمت زیور
ارشاد باری تعالی ہے : (نساء:٣١) ترجمہ: اور مسلمان عورتوں کو حکم دو اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور اپنی پارسائی کی حفاظت کریں اور بناو نہ دکھائیں مگر جتنا خود ہی ظاہر ہے۔ “
دور جدید میں ایک بلا اور دیکھنے کو ملتی ہے کہ عورتیں گھروں سے باہر نکلنا زیادہ پسند کرتی ہیں۔ بازاروں، مارکیٹوں، اور شاپنگ مالوں میں عورتوں کا ایک جم غفیر اور ازدحام شدید رہتاہے۔ خریداری خود کرنے کو ترجیح دیتی ہیں۔ جب کہ یہ عورت کے لیے وبال جان ہے۔ حدیث نبوی میں فرمایا گیا:” النساء حبالۃ الشیطان۔” (اخرجہ ابن ابی شیبۃ فی مصنفہ من حدیث عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ موقوفا) یعنی عورتیں شیطان کا پھندا ہیں۔ دوسری قسم لباس کا پردہ ہے۔ جس کی تین صورتیں ہیں۔ ١برقع، ٢حجاب، ٣_نقاب پردے کی ان تینوں قسموں کے بابت متعدد قرآنی آیات اور تقریبا ستر احادیث نبویہ شاہد وناطق ہیں۔
(( برقع )) برقع کے بارے میں قرآن کریم کی یہ آیت دال ہے۔ فرمایا: (احزاب:٥٩) ترجمہ: اے نبی! اپنی بیویوں، صاحبزادیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے فرمادو کہ اپنی چادر کا ایک حصہ اپنے منھ پر ڈالیں۔
ترجمے سے اتنی بات واضح ہے کہ اس آیت میں پردے کا حکم دیا گیا۔ لیکن اس کی مقدار کیا ہے؟ پردے کی یہ کونسی قسم ہے؟
تفسیری عبارتوں کے مطالعے سے عیاں ہوتاہے کہ اس سے “برقع “مراد ہے۔ تفسیر” روح المعانی” میں ہے:
“والجلابیب جمع جلباب وھو علی ماروی عن ابن عباس الذی یستر من فوق الی اسفل۔ ” (روح المعانی، ج: ١١، ص:٢٦٤/ دار الکتب العلمیہ) یعنی آیت کریمہ میں جلابیب جلباب کی جمع ہے ۔ اور حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ کی تفسیر کے مطابق وہ ایسا لباس ہے جو اوپر سے نیچے تک چھپادے۔ یہ لفظ “جلابیب” کی وضاحت میں ہوئی۔ اب “یدنین” کا معنی ملاحظہ فرمائیں۔ تفسیر روح المعانی اسی جگہ ہے :
“معنی (یدنین علیھن) یرخین علیھن یقال اذا زل الثوب عن وجہ المرأۃ ادنی ثوبک علی وجھک، وعندی ان کل ذالک بیان لحاصل المعنی والظاہر ان المراد علیھن علی جمیع اجسادھن۔ ” ترجمہ: یدنین علیھن کا معنی یہ ہے کہ اپنے اوپر پردہ ڈال لیں ، جب کپڑا عورت کے چہرے سے ہٹ جاۓ تو بولا جاتا ہے:” اپنا کپڑا اپنے چہرے پر قریب کرلے”
اور میرے نزدیک ان میں سے ہر ایک حاصل معنی کا بیان ہے اور ظاہر یہ ہے : اپنے اوپر اپنے پورے جسموں پر پردہ ڈال لیں۔ ” اسی طرح ” تفسیر بیضاوی” میں ہے: ” یغطین وجوھھن وابدانھن بملاحفھن اذا برزن لحاجۃ ومن للتبعیض فان المرأۃ ترخی بعض جلبابھا وتتلفع ببعض۔”(بیضاوی، ج: ٢، ص:٢٥٢)
عورتیں جب کسی ضرورت سے گھر سے باہر نکلیں تو چہروں اور جسموں کو بڑی لمبی چادروں میں چھپالیں، اور “من” یہاں تبعیض کا ہے تو عورت اپنے جلباب کے ایک حصے سے چہرا چھپاۓ اور ایک سے پورا جسم۔ اب تک کی گفتگو عورت کے گھر سے باہر نکلنے پر برقع پہننے کے لازم وواجب ہونے پر ہوئی۔ لیکن حالیہ دنوں ریاست کرناٹک میں زیر بحث مسئلہ برقع کا نہیں ہے، بلکہ وہ حجاب کا مسئلہ اچھالا گیا
لہذا پردے کی دوسری قسم حجاب پر خامہ فرسائی ضروری ہوئی۔ (( حجاب )) گزشتہ چند روز قبل ریاست کرناٹکا کے شہر اڈوپی میں یہ مسئلہ اٹھایا گیا کہ حجاب ضروری نہیں ہے۔
جس کا کچھ پس منظر یہ ہے : اب تک چوں کہ محض اسکولوں میں ہی ڈریس اور یونیفارم کا چلن اور دستور تھا، کالج میں ڈریس و خاص لباس کا کوئی التزام نہ تھا، سال گزشتہ مرکزی حکومت بیجےپی نے ایک آرڈیننس پاس کرکے کالجوں میں بھی یونیفارم کا نفاذ لازم کردیا
لیکن اس وقت وبائی مرض کورونا وائرس کے چلتے اسکول وکالجز مقفل تھے اس سبب کوئی شور شرابہ نہ ہوا، سال رواں اسکول و کالجز کو کھولنے کا جب فرمان جاری ہوااور طالبات نے اداروں، کالجوں کا رخ کیا
تو کرناٹک کے اڈوپی کے ایک کالج میں انتظامیہ کے جانب سے دروازے پر نواینٹری کا بورڈ آویزاں دیکھا، اس بورڈ پر چسپاں نوٹس وانتباہ میں یہ صراحت تھی کہ طلبہ وطالبات کا داخلہ بنا ڈریس کے کالج میں ممنوع ہے۔ اس پر ان طالبات نے احتجاج شروع کردیا دراصل یہ سازش بیجےپیاور آرایسایس کی ہے جو رفتہ رفتہ اسلامی شناخت، اسلامی رسم ورواج کو مٹانے کے درپہ ہے۔
اور ملک کو ہندو راشٹریہ کی طرف لے جارہے ہیں، خدا کرے، ان کا یہ خواب کبھی شرمندہُ تعبیر نہ ہو!
یہاں سے یہ مسئلہ عدالتوں،نیوز چینلوں اور قائدوں کی تقریروں تک پہونچ گیا۔ اس ضمن میں کرناٹک ہائی کورٹ کا فیصلہ مسلمانوں کے لیے تشویش کن رہا اور فیصلے میں یہ دلیل پیش کی گئی کہ حجاب اسلام میں ضروری اور لازمی پرمپرا نہیں ہے۔ اس جگہ بظاہر دو چیزوں میں تضاد ہوا اول یہ کہ ملک کے آئین میں کالج کے انتظامیہ کو اپنے حساب سے ڈریس اور یونیفارم منتخب کرنے کا پورا حق حاصل ہے دوسرا یہ کہ سنودھان میں ملک کے ہر شہری کو اپنے مذہب کے مطابق زندگی گزارنے اور اس کے رسم ورواج کو فروغ دینے کا پورا حق ہے۔
ہائی کورٹ میں جب اس مسئلہ کی سماعت ہوئی تو فیصلہ کالجوں کے حق میں آیا اور انتظامیہ کی حجاب پر پابندی کو درست بتایا اور باقی رکھا، طالبات کے وکیل نے قرآن کی کئ آیات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: “یہ ان کا آئینی حق ہے اور اسلام میں مسلم خواتین کے لیے حجاب ضروری قرار دیا گیا ہے۔
” ججوں کی فل بنچ نے آیتوں کا ترجمہ سننے کے بعد کہا:” کسی بھی آیت سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ حجاب اسلام میں ضروری ہے”یہاں جس حجاب اور پردے کا حکم دیا گیا ہے وہ شرم وحیا کا لباس ہے۔
” اس طرح سے ایک بار پھر عدلیہ نے حقائق سے چشم پوشی کرتے ہوئے اقتدار کے دباو میں جانبدارانہ فیصلہ دیا اس کے بعد عدالت عظمیٰ میں اس مقدمہ کی رٹ دائر کی گئی اور وہاں بھی یاس نامیدی کے سوا کچھ ہاتھ نہ آیا لہذا بےحد ضروری ہوا کہ حجاب اسلام میں ضروری ہے یا نہیں؟ اس کا جائزہ لیا جائے۔ (جاری)
از: محمد ایوب مصباحی
پرنسپل وناظم تعلیمات: دار العلوم گلشن مصطفی
وخطیب وامام جامع مسجد عالم پور، ٹھاکر دوارہ، مراداباد، یوپی
رابطہ:8279422079